سید نعمت اﷲ کرمانی
پروفیسر برؤن نے اپنی کتاب ’’فارسی ادب درعہد تاتاریاں‘‘ میں ان کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ جن میں سے انہوں نے شاہ نعمت اﷲؒ کے حالات وواقعات زندگی مختصراً اخذ کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شاہ نعمت اﷲؒ کی سب سے معتبر سوانح زندگی ریو صاحب کی کتاب موسوم بہ پرشین کٹیارگ (فہرست اسماء اوبا فارس) میں دئیے گئے ہیں۔ جہاں ان حالات پر جو عام کتب سیر میں پائے جاتے ہیں۔ ایک اس زمانہ کے نادر کتبہ سے جو اس وقت برٹش میوزیم میں موجود ہے۔ تفصیلات لے کر اضافہ کی گئی ہیں۔ نیز تاریخ یزد وشاہیر یزد موسوم بہ جامع مفیدی سے بھی مزید حالات لئے گئے ہیں۔
شاہ صاحب کے مجمل حالات زندگی یوں ہیں۔ ان کا پورا نام امیر نورالدین نعمت اﷲ تھا۔ باپ کا نام میر عبداﷲ تھا۔ نسب میں اپنے آپ کو شیعوں کے پانچویں امام محمد باقر جو حضرت علی کرم اﷲ ابن ابی طالب کے پروتے تھے کی اولاد کہتے تھے۔ آپ حلب میں ۷۳۰ھ مطابق ۱۳۲۹ء یا ۱۳۳۰ء پیدا ہوئے۔ مگر شباب کا اکثر حصہ عراق میں بسر کیا۔ چوبیس برس کی عمر میں مکہ معظمہ کی زیارت کی۔ جہاں سات سال مقیم رہے اور شیخ عبداﷲ یافعی کے اکابر مسترشدین میں شمار ہونے لگے۔ شیخ موصوف اپنے زمانہ کے ایک مشہور صوفی اور مورخ تھے۔ جنہوں نے ۷۶۸ھ مطابق ۶۷،۱۳۶۶ء میں انتقال فرمایا۔ شاہ نعمت اﷲ کی آخری زندگی سمرقند۔ ہرات اور یزد میں بسر ہوئی۔ تاآنکہ بالکل اخیر پر آپ ماہان متصل کرمان تشریف لے گئے اور زندگی کے باقی پچیس سال وہیں گذارے۔ آپ نے اسی مقام پر سو سال سے زائد عمر پائی۔ ۲۲؍رجب ۸۳۴ھ مطابق ۵؍اپریل ۱۴۳۱ء کو انتقال کیا۔ مؤرخ عبدالرزاق سمرقندی نے ۸۴۵ھ مطابق ۴۲،۱۴۴۱ء پر آپ کی قبر کی زیارت کی۔ شاہ نعمت اﷲ درویشوں کے پادشاہ تھے۔ اسی لئے انہیں لقب شاہ سے پکارا جاتا تھا۔ آپ کے پادشاہوں سے دوستانہ تعلق تھے۔ شاہ رخ آپ کی خاص عزت کرتا تھا۔ احمد شاہ بہمنی شاہ دکن نے اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھا۔ جب اس کی تائیدی التجاؤں پر شاہ صاحبؒ کا ایک پوتا آخر اس کے دربار میں آگیا۔ دو اور پوتوں نے بھی باپ کے ساتھ ادھر کا رخ کیا۔ شاہ نعمت اﷲؒ کے اخلاف میں سے جو ایران ہی میں رہے۔ کئی ایک نے صوفیوں کے شاہی خاندان میں شادیاں کیں۔