(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴) میں لکھتے ہیں: ’’اﷲ پاک نے مجھ سے معجزات وابستہ کئے اور اس قدر معجزات کا دریا رواں کیا کہ تمام انبیاء مل کر بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘ اس بات کو بھی مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن میں خاتم النبیین کے لئے جو آیت موجود ہے وہ میرے لئے ہی لکھی گئی ہے اور میں آخری نبی ہوں۔‘‘
مرزاقادیانی ’’اربعین‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’میں صاحب شریعت نبی ہوں اور میں نے اپنا ایک قانون مقرر کیا ہے تو کیا اب بھی میری نبوت میں کوئی شک رہ گیا ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳) ہی میں لکھتے ہیں۔میں آنحضرتﷺ سے افضل ہوں۔ ’’چونکہ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، تو اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ میں محمدؐ سے افضل ہوں۔‘‘ اور مرزاقادیانی اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں۔ جب کہ آنحضرتﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی گئی ہے۔
آپ خود فیصلہ کریں
میں نے مرزاقادیانی کی ان تحریرات سے عبارتیں نقل کیں۔ جو ۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۹ء تک مسلمانوں کے اجتماعی عقائد اور دعویٰ نبوت سے پہلے کی تھیں اور ان کتابوں سے بھی نقل کیں جو دعویٰ نبوت کے بعد لکھی گئیں۔ جو اسلام کے بنیادی اصولوں ہی سے نہیں ٹکراتی۔ بلکہ مرزاقادیانی کی اپنی ابتدائی تعلیمات سے بھی متضاد ہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ایک ایسا شخص جس کے اقوال میں اس قدر تضاد ہو۔ یعنی ختم نبوت بھی ہے۔ اجرائے نبوت بھی، حیات مسیح بھی ہے۔ وفات مسیح بھی، پر ایمان لایا جاسکتا ہے یا اسے رسالت کا درجہ سونپا جاسکتا ہے؟ کبھی نہیں ہوسکتا۔ چونکہ نبی معاشرے کی اصلاح کے لئے آتے ہیں نہ کہ بربادی کے لئے۔ نبوت کا منصب اسی کو عطاء کیا جاسکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ اس لئے آنجہانی مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکار کذاب، مفتری، کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ؎
آئینہ دیکھ اپنا سامنہ لے کر رہ گئے
صاحب کو اپنے حسن پہ کتنا غرور تھا