انہوں نے سب سے زیادہ ظلم وستم مسلمانوں ہی پر ڈھایا اور اپنے دور اقتدار میں بھی مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اورمعاشرتی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں اور ہندوستان چھوڑتے وقت بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
انگریزوں کو اپنے رنگ پر مان تھا۔ وہ ہندوستانیوں کو کالا آدمی کہہ کر پکارتے۔ انہیں اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ انہیں بدتمیز وحشی اور جنگلی کہہ کر پکارتے اور انہیں اپنا غلام سمجھتے۔ جب ان کے ظلم وستم اپنی انتہاء کو پہنچے اور مختلف مذاہب میں رخنہ اندازی شروع کر دی۔ عوام بدحالی کا شکار ہوگئے۔ ظلم وناانصافی کا دور شروع ہوگیا۔ اخوت ومحبت کی اصطلاحیں بے معنی ہوکر رہ گئیں۔ گورے حکمران اور کالے غلام بن گئے۔ جب حاکم ومحکوم میں نفرت اپنی انتہاء کو پہنچی تو برصغیر کے عوام نے بلا امتیاز مذہب وملت باہم مل کر مغلوں کے آخری تاجدار بہادرشاہ ظفر کی قیادت میں ۱۸۵۷ء میں آزادی کی جنگ لڑی جو بعض نامساعد حالات کی بناء پر ناکام ہوئی اور اس کا اصل مجرم مسلمانوں ہی کو ٹھہرا کر ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو زندگی کے ہر پہلو سے بیگانہ کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ انگریزوں نے برصغیر پر اپنے اقتدار کی بنیادوں میں انسانوں کا خون ہی نہیں اخلاقی اصولوں کا خون بہایا اور جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو خوف تھا کہ ایسی جنگ دوبارہ بھی لڑی جاسکتی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں میں جذبۂ جہاد مفقود کرنے اور تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ایک سازش تیار کی۔ چونکہ مسلمان معاشی، سیاسی اور تعلیمی میدان میں تو پسماندہ کر دئیے گئے تھے۔ ان کو مذہب سے بھی بیگانہ کر کے اپنے اقتدار کو دائمی حیثیت دینے کی ترکیب سوچی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی ایمانی جز ختم نبوت کو بدلنے کی کوشش کی۔ تاکہ مسلمانوں کا بیّن اسلامی اتحاد نہ رہے اور جذبۂ جہاد بھی ختم ہو جائے۔ اس لئے انہوں نے ایک شخص (مرزاغلام احمد قادیانی) کو منصب نبوت پر فائز کیا۔ گویا آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدﷺ تک تو نبوت خدا کی طرف سے ملتی رہی۔ لیکن اب نبوت انگریزوں کی طرف سے ملنا شروع ہوگئی۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل دلیل سے ظاہر ہوتا ہے۔
۱۸۷۰ء میں وائٹ ہال لندن میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں برطانوی کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی شریک ہوئے۔ کمیشن نے ایک رپورٹ پیش کی۔ جو دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا کے نام سے شائع ہوئی۔
"The Arival of British Empire in India."