دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
¯عوت وتبÙ |
|
فائدہ: چھوٹے اوربڑوں کی تشریح ماقبل میں گذر چکی ہے، حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ فرمارہے ہیں کہ چھوٹے اپنے بڑوں کے محتاج ہیں کہ ان کی اصلاح و تربیت و نگہداشت کے بغیرچھوٹوں کی دینی ترقی ورہنمائی اورصحیح تربیت نہیں ہوسکتی، جب بڑے اپنے چھوٹوں کی نگرانی و تربیت کریں گے تو چھوٹوں کی تربیت کے ساتھ بڑوں کی عزت بھی ہوگی اس لیے چھوٹے اور بڑے دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، بڑے اپنے چھوٹوں کی جو تربیت کرتے ہیں اللہ کی طرف سے ان کو بہت اجر ملتا ہے اس اجر کے بھی بڑے محتاج ہیں ، حدیث پاک میں رسول اللہ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے علی!اللہ تعالی تمہارے ذریعہ کسی کو ہدایت دے دے یہ تمہارے لیے سرخ اونٹ سے (جو عرب میں بہت قیمتی سمجھا جاتا تھا) بھی بہتر ہے لیکن یہ سب اسی وقت ہے جب کہ بڑے اپنے چھوٹوں کی اصلاح و تربیت کی طرف توجہ کریں اورچھوٹے بھی اپنی اصلاح و تربیت کی ضرورت محسوس کریں اور اپنے بڑوں کی تربیت کو قبول بھی کریں تو جانبین کو فائدہ ہوگا۔اوراگر چھوٹے اپنے بڑوں سے یعنی علماء ومشائخ سے مستغنی ہوجائیں اوران کی تربیت کو قبول نہ کریں یا بڑے اپنی ذمہ داری کو چھوڑدیں ، تو پھرآپس میں اختلاف وشقاق ہوگاجیسا کہ آج کل ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے ۔ پھر اصلاح و تربیت کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے عقائد کی اصلاح، عبادات کی اصلاح، اعمال و اخلاق کی اصلاح ، ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح، قرآن پاک پڑھنے میں اذانوں اور دعاؤں وغیرہ میں بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں ان سب کی اصلاح، معاشرتی اور گھریلو مسائل میں اصلاح ،بیع وشراء کے معاملات میں اصلاح وغیرہ وغیرہ…الغرض اصلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے، سارے امورکی اصلاح میں عوام الناس اپنے بڑوں کے یعنی علماء و مشائخ کے قدم قدم پر محتاج ہیں اور علماء کرام کاہرموقع پر عوام کی رہنمائی کرنا ان کا منصبی فریضہ ہے۔