چونکہ صاحبزادے آنحضرت کے ذاتی کمالات کا آئینہ تھے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ ان کی ذات اور میری ذات واحد ہے جو ان سے محبت رکھتا ہے وہ مجھے بھی چاہتا ہے جو ان کو دشمن خیال کرے وہ مجھے بھی دشمن سمجھتا ہے۔ ابن عساکر نے ابن عباس سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۲… صاحبزادوں کی شکل رسول اﷲﷺ سے ملتی جلتی تھی بظاہر وہ ان کی تصویر تھے جیسا نجاری کی حدیث سے یہ بات واضح ہے اور ترمذی نے حضرت علی سے اس واقعہ کو مفصلاً بیان کیا ہے کہ امام حسن سر سے دھڑ تک آنحضرت سے مشابہت رکھتے تھے اور دھڑ سے پائوں تک امام حسین کا نقشہ حضرت سے ملتا جلتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسن وحسین کی شہادت آنحضرت کی شہادت سمجھی جاتی ہے اور آپ کے کمالات میں معدود ہوتی ہے۔
امام مہدی مثیل محمد ہیں
۷… امام مہدی علیہ السلام رسول خداﷺ کا ظل ہوں گے اگر ظلیات کے ماتحت نبوت حاصل ہوسکتی ہے تو امام مہدی کو نبی سمجھنا چاہئے حالانکہ اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں بلکہ اہل سنت حضرت ابو بکرؓ کو ان سے برتر سمجھتے ہیں۔
ابو اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے بڑے صاحبزادے امام حسنؓ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ان ابنی ہذا سید کما سماہ رسول اﷲﷺ وسیخرج من صلبہ رجل یسمی باسم نبیکم یشبہہ فی الخلق ولا یشبہہ فی الخلق‘‘ یہ میرا صاحبزادہ سید ہے آنحضرت نے اسے سردار ٹھہرایا ہے اس کی صلبی نسل سے ایک ایسا امام پیدا ہوگا جس کا نام محمد ہوگا۔ وہ اخلاق میں حضرت کا نمونہ ہوگا اور صورت میں ان کے ساتھ مماثلت نہ ہوگی۔ ابو دائود نے اس روایت کو بیان کیا ہے بااینہمہ امام مہدی کی شان انبیاء کے بلکہ حضرت ابو بکر کی مساوی نہیں حالانکہ وہ ظلی طور پر مثیل محمد ہیں۔ علامہ محمد طاہر نے مجمع البحار میں لکھا ہے:
’’فان خیرہم ابو بکر ثم عمر وہم قریبا فی فضل الصحابۃ ہذا ہو عقیدۃ اہل السنۃ قاطبۃ ولم یخالف فیہ احد فانظر ہل احد اجہل ممن یفضل علی الصدیق الذی وزن بہ جمیع الامۃ فرجح شخصا اعتقد مہد ویتہ بلادلیل وشبہۃ بل وقد نسمع من بعض الثقات انہم یفضلونہ علی سید الانبیائ‘‘ یعنی سب سے افضل حضرت ابو بکرؓ ہیں پھر عمرؓ، یہ تمام اہل سنت کا عقیدہ ہے جس میں