ہوجائے گا اور نہ دوسری جزو کا شمہ آ پکی ذات میں ہے مگر حضرت کی ذات میں اس صفت کا ظہور بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے کہ جس قوم پر آپ نے حملہ کیا وہ تباہ ہوئی اور جس قوم نے آپ پر حملہ کیا وہ چکنا چور ہوئی۔
حدیث دہم
سید علامہ نے ترجمان القرآن میں ایک روایت کو ذکر کیا ہے جو پہلی روایتوں کی موئید ہے یعنی آنحضرت نے فرمایا: ’’انا خاتم الف نبی او اکثر‘‘ یعنی میں ہزار نبی بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد کا خاتم ہوں۔
حدیث یازوہم
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول ہے: ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ یعنی تم کو یہ کہنا لازم ہے کہ آنحضرت کی ذات پر نبوت ختم ہوچکی ہے اور جدید نبوت کسی کو مرحمت نہیں ہوسکتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی سابقہ نبو ت پر جو ان کو آنحضرت سے چھ صد سال قبل عطا ہوچکی ہے۔ بحالت نبوت نازل ہوں گے۔ لہٰذا یہ مت کہو کہ لا نبی بعدہ۔
خاتم کے معنی پر مختصر بحث
مرزا قادیانی کا قول ہے کہ خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کی مہر اور تصدیق سے آپ کے بعد انبیاء ہوسکتے ہیں اور اس طرح سلسلہ نبوت جاری ہے لیکن یہ ایک ایسے معنی ہیں جو آنحضرتﷺ کے بیان کے بالکل مخالف ہیں۔ چنانچہ حدیث ثوبان میں جو صدر میں گزری آنحضرت سے خاتم النّبیین کی تفسیر اسی طرح مروی ہے۔ انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی خاتم النّبیین کے مقصد اصلی پر کافی روشنی ڈال دی ہے جس کے بعد کسی شرح یا حاشیہ کی حاجت نہیں۔ یہ جملہ پہلے مجمل جملہ کی تشریح کا ذمہ وار ہے اذا جائہ نہر اﷲ بطل نہر معقل نبی کے کلام میں ان جملہ مفاسد کی تردید کا مادہ موجود ہوتا ہے۔ جو آئندہ زمانہ میں پیدا ہونے والے ہوں۔ اس لئے حضور نے بطور مزید تشریح ایسا جملہ کلام میں بڑھا دیا ہے جس نے سب احتمالات فاسدہ کی نفی کردی ہے اور فصحاء عرب کے کلام میں بلکہ خود قرآن میں ایسے نظائر موجود ہیں کہ جن میں جملہ مؤخر جملہ مقدم کی تشریعی واقع ہوا ہے۔ چنانچہ جزو۲۹ میں سورہ معارج کی آیت اسی قسم سے ہے: ’’ان الانسان خلق ہلوعا اذا مسہ الشرجزوعا واذا مسہ الخیر منوعا‘‘ مؤخر جملات ہلوعا کے لئے بطور تفسیر واقع ہیں۔ علامہ سیوطیؒ نے جلالین میں اس بیان