جستجوئے مسیح میں تھا۔ ۱۹۱۴ء میں مسیح (مرزاغلام احمد قادیانی) کو پایا اور نہایت مخلصانہ طور پر اٹھائیس سال کی عمر میں ترک دنیا کر کے مزید حصول علم دین کے لئے قادیان پہنچا اور مرزاقادیانی کے تحریر کردہ دس ہزار صفحات سے جن میں تین سو جگہ مسئلہ نبوت کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پورا پورا واقف ہوگیا۔ اس طرح ’’اسرار نبوت‘‘ کے کھلنے کا اس فقیر پر یہ پہلا سبب ہے۔‘‘ (مہر نبوت ص۲۵)
اس اقتباس سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ چن بسویشور کا قادیان جانا، مرزاغلام احمد قادیانی کو مسیح موعود ماننا اور ان کی تصانیف سے استفادہ دینی اور اسرار نبوت کا کھلنا۔ قارئین حضرات یہیں سے اقتباسات کو ذہن نشین کرتے جائیں اور یہ بات نہ بھولیں کہ یہیں سے دیندار صاحب پر اسرار نبوت کھلنے شروع ہوگئے۔ اس وقت اٹھائیس برس کی عمر ہے۔ آج ترک دنیا کر کے مرزاقادیانی کی کتابوں سے کفریات کی خوشہ چینی میں مصروف ہیں۔ کل کو پتہ چلے گا کہ ’’اسرار نبوت‘‘ کھلے ہیں یا جہنم کے انگاروں سے دامن بھر لیا ہے ؎
آج جو کفر سے مصروف ہیں سرگوشی میں
ہوش آئے گا انہیں موت کی بیہوشی میں
(اکبر الہ آبادی)
غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے اسرار نبوت خاک ملتے وہاں تو اغواء نفسانی کے غول بیابانی کمین گاہ میں شکار کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہیں زقوم کے کانٹوں میں بھی پھول ملا کرتے ہیں۔ اب تو جہنم رسید ہونے کے بعد چن بسویشور صاحب دل ہی دل میں کہتے ہوں گے کاش میں وہاں نہ جاتا۔ مگر اب تو ’’یٰلیتنی کنت ترابا‘‘ کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے کا ؎
مدتوں بیٹھا ترے ہنگامۂ عشرت میں سمیں
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت میں میں
مدتوں ڈھونڈا کیا نظارۂ گل خار میں
آہ! وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں
(علامہ اقبال)
دربار قادیان سے نا امید لوٹے، تبھی تو قادیانیوں بالخصوص میاں محمود سے روٹھے اور اپنی مستقل نبوت اور مأمور وموعود ہونے کے دعویدار بنے اور زبان حال سے یہ کہتے ہوئے دربار قادیان سے لوٹے کہ ؎