’’م ح م‘‘ کا شعر جو مرزاقادیانی کے نسخہ ’’ا ح م د‘‘ بن گیا ہوا ہے۔ اس شعر کے بعد ہے اگلا شعر جو تشریح میں درج کیا ہے۔ یہ شعر ہے ؎
دین ودنیا ازو شود معمور
خلق زوبختیارمے بینم
تشریح لکھتے ہیں۔ ’’یعنی اس کے آنے سے اسلام کے دن پھریں گے اور دین کو ترقی ہوگی اور دنیا کو بھی۔‘‘
ہم اتنی تشریح نقل کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ کیونکہ آگے جو کچھ لکھا ہے وہ پھر اس کی تشریح ہے۔ اسلام کے دین ودنیا کو مرزاقادیانی نے جو ترقیاں دی ہیں۔ وہ پوشیدہ نہیں۔ اس تشریح میں آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’اور یہ جو اشارہ کیا کہ اس کے آنے سے اسلام کی دینی ودنیوی حالت صلاحیت پر آجائے گی۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ اسلام کے لئے رحمت ہوکر آتا ہے اور اسی کے ساتھ جلد سے یادیر سے رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے۔‘‘ یہ یا دیر سے ملاحظہ ہو اور اوپر لکھ کر رہے ہیں۔ اس کے آنے سے ہی یہ کچھ ہوتا ہے اور شعر بھی کہہ رہا ہے کہ ’’دین ودنیا ازو شود معمور‘‘ مگر معمولی بات ہے۔ مرزاقادیانی دانا تھے۔ انہیں اپنی اصل حقیقت معلوم تھی۔ یادیر سے کہے بغیر باقی کی بات ساری کی ساری جاتی تھی۔ آگے فرماتے ہیں اور کیا یقین دلاتے ہیں۔ یہ لکھ کر ’’مگر اوائل میں قحط اور وبا وغیرہ کی تنبیہیں بھی اترا کرتی ہیں اور اور اہل کشف انجام کا حال بیان کرتے ہیں نہ ابتدائی واقعات کا۔‘‘ اﷲ اﷲ! پیش گوئی نے تمام دنیا کو زیروزبر کر کے امام موعود کو ظاہر کیا اور ابھی یہ ابتدائی واقعات باقی ہی تھے کہ امام کے ظاہر ہو جانے پر بھی ہمیشہ ہوتے ہی رہتے۔
بادشاہ تمام ہفت اقلیم
شاہ عالی تبارمے بینم
تشریح: یعنی مجھ کو کشفی نظر میں وہ ایک شاہ عالی خاندان ہفت اقلیم کا بادشاہ نظر آیا ہے۔ یہ مطابق اس پیش گوئی کے ہے۔ جو ازالہ اوہام میں درج ہوچکی ہے اور وہ یہ ہے۔
’’حکم اﷲ الرحمن الخلیفۃ اﷲ السلطان سیوتی لہ الملک العظیم‘‘ یہ اس عاجز کی نسبت الہام ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفتہ اﷲ بادشاہ جس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا۔‘‘ (ماشاء اﷲ) اور جس پر زمین کے خزانے کھولے جائیں گے۔ آگے لکھا ہے۔ ’’اس بادشاہی سے مراد اس دنیا کی ظاہری بادشاہی نہیں بلکہ روحانی بادشاہی ہے۔‘‘ کیا ہمارے مکرم