میں پیشین گوئیوں کے لئے موقع کے منتظر رہتے تھے۔ مرزاقادیانی کے ایک ماموں زاد بھائی تھے۔ جن کا نام احمد بیگ صاحب تھا۔ مرزااحمد بیگ کی اہلیہ عمر النساء مرزاقادیانی کی چچازاد ہمشیرہ تھی۔ مرزاقادیانی کے دوسرے لڑکے فضل احمد کی اہلیہ عزت بی بی مرزااحمد بیگ کی بھانجی تھی۔ چنانچہ اس طرح مرزاغلام احمد قادیانی کا مرزااحمد بیگ اور ان کے اقرباء پر خاندانی تعلقات کے اعتبار سے کافی اثر تھا۔ مرزااحمد بیگ کی ایک نو عمر لڑکی تھی۔ جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ ادھر مرزا احمد بیگ کو اپنی زمین کے معاملات میں مرزاقادیانی سے کچھ کام پڑا اور انہوں نے مرزاقادیانی سے اس معاملہ میں تعاون کی درخواست کی اور ادھر عمر النساء بیگم کے بھائی اور مرزااحمد بیگ کے سالے امام الدین نے جو ایک لاابالی طبیعت کے شخص تھے۔ مرزاقادیانی کو امید دلائی کہ وہ اپنی بھانجی محمدی بیگم سے مرزاقادیانی کی شادی کرادیں گے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے پیشین گوئی کر ڈالی کہ ان سے محمدی بیگم کا نکاح آسمان پر طے ہوچکا ہے اور جب انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو انہوں نے طرح طرح سے مرزااحمد بیگ پر خاندانی تعلقات کے دباؤ ڈالے۔ اس کی روئیداد ذیل میں قابل ملاحظہ ہے۔
۲…انعام کا وعدہ ’’بیان کیا مجھ سے عبداﷲ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں (امام الدین) نے محمدی بیگم کا مرزاقادیانی سے رشتہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کامیاب نہ ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ جب کہ محمدی بیگم کا والد مرزااحمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزاسلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ مجری کے نکاح کا عقدہ زیادہ تراسی کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت (مرزاقادیانی) نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل روایت نمبر۱۷۹ ص۱۹۲،۱۹۳)
۳…محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی
’’خداتعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزاغلام احمد قادیانی) پر ظاہر فرمایا کہ مرزااحمد بیگ ولد مرزاگاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح