ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
عقائد خراب نہ تھے مگر پھر بھی چونکہ بعض خاندانی رسوم ایسی تھی جو ان کے یہاں تقریبات میں ہوا کرتی تھیں اور مولوی صادق الیقین صاحب کو وہ رسوم پسند نہ تھیں اس وجہ سے باپ بیٹوں میں بنتی نہ تھی یہاں تک کہ ایک بار ان دونوں میں ناچاقی بڑھ گئی تو میں نے مولوی صادق الیقین کے والد کو ایک خط لکھا اور وہ خط مدت ہوئی بعض احباب نے مفید دیکھ کر چھاپ بھی دیا ہے نام اس کا مکتوب محبوب القلوب ہے اس کے اندر میں نے اول اختلافی مسائل کے متعلق محقیقین اہل حق کے مسلک کو ظاہر کیا ہے اور اس کے بعد تشدد اور مدابنت اور افراط و تفریط دونوں کے مذمت بیان کی ہے ـ اس خط کو مولوی صادق الیقین کے والد پر ایسا اثر ہوا کہ دونوں باپ بیٹوں میں صلح ہو گئی ـ مگر کبھی کبھی مجھ کو مولانا گنگوہی کی شان انتظامی دیکھ کر یہ خیال ہوا کرتا تھا کہ اس مکتوب میں میں نے جو اختیار کیا ہے شاید مولانا گنگوہی کو نا پسند ہو مگر ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ جب گنگوہ گیا تو ایک شخص نے ایک دن میری بھی دعوت کی اور مولانا گنگوہی کو بھی دعوت کی ـ اس مجمع میں ایک صاحب نے مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت مولوی صادق الیقین اور ان کے والد کے درمیان جو کشیدگی ہو گئی تھی معلوم نہیں کہ وہ ابھی تک قائم ہے یا ختم ہو گئی ـ اس کے جواب میں مولانا گنگوہی نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ بھائی اللہ تعالی جزائے خیر دے ان کی بدولت دونوں باپ بیٹوں میں صلح ہو گئی ـ جب مولانا گنگوہی کا یہ جواب میں نے سنا تو مجھکو خوشی ہوئی کہ مولانا نے بھی میرے اس مکتوب کو پسند فرمایا ـ اس کے بعد حضرت حکیم الامت دام ظلہم العالی نے ارشاد فرمایا ـ کہ ہماری جماعت کے بعض بزرگوں کے متعلق لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بدعت و سنت کے معاملہ میں ان کو تشدد تھا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے بلکہ وہ حضرات بھی میری طرح تشدد کو اچھا نہیں سمجھتے اور ان کا بھی بدعت و سنت کے متعلق وہی مسلک تھا جو میرے محققین اہل حق کا ہے اور وہ مسلک یہ ہے کہ محققین ان امور میں عملا سخت ہوتے ہیں اور عقیدہ نرم ـ مگر باوجود ان حضرات کے متشدد نہ ہونے کے پھر جو لوگ ان کو متشدد سمجھنے لگے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حضرات اپنے عدم تشدد کو عام مجلس میں ظاہر نہیں فرماتے تھے کیونکہ وہ عام طور پر اس اپنے عدم تشدد کے اظہار کو انتظام کے خلاف سمجھتے تھے ـ اور ان کو یہ اندیشہ تھا کہ ہمارے توسع کو دیکھ کر عوام الناس کسی اعتقادی اور عملی غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں ـ مگر میں اب اس