وآلام کا نشانہ ہرشخص بنتا ہے ، لیکن ان کی شدت وخفت کا تعلق انسان کے قلب وباطن کی کیفیات سے ہوتا ہے ، اگر آدمی کو اﷲ کی ذات پریقین ہو، اس پر پختہ ایمان ہو، اﷲ کی حکمت ورحمت پر اعتماد کرتا ہو، جن سب کا حاصل ’’یقین ‘‘ ہے ، تو اسے ہر مصیبت سہل ہوگی ، اور اگر اس کے برخلاف ہو، تو معمولی سی تکلیف بھی ناقابل برداشت ہوگی ، لیکن یقین کی یہ کیفیت عطیۂ خداوندی ہی ہے، اس لئے اس کا سوال اﷲ تعالیٰ سے کیا گیا، یہ کیفیت دنیا میں راحت کی کنجی ہے ۔ روایت میں مصیباتکے بجائے مصائب کا بھی لفظ آیا ہے۔
وَمَتِّعْنَا بِأسْمَاعِنَا وَأبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أحْیَیْتَنَا: آدمی کو اﷲ تعالیٰ نے بدن میں جو قوتیں عطا فرمائی ہیں ، ان میں کان اور آنکھ کی طاقت خصوصی طور سے اہم ہے ، لیکن یہی دونوں چیزیں جلد ساتھ چھوڑتی ہیں ، سماعت کم ہونے لگتی ہے ، تو آدمی آوازوں سے بے بہرہ ہوجاتا ہے ، بصارت کمزور ہوجاتی ہے ، تو آدمی مشاہدے سے محروم ہوجاتا ہے ، اور ان دونوں کے نہ ہونے سے انسان کو جس محرومی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، لیکن دوسری قوتیں بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتیں ، لیکن زندگی ہی میں یہ طاقتیں علیٰحدگی اختیار کرنے لگتی ہیں ، اور آدمی مجبور اور بے بس ہوکر رہ جاتا ہے ، اﷲ سے مانگا گیا ہے کہ زندگی کے اخیر لمحات تک ان تمام قوتوں کو ہمارے لئے کارآمد بنائے رکھئے، انسانی مجبوریوں سے بچے رہنے کی کتنی عمدہ یہ تدبیر ہے۔
وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنَّا:مشہور محدث امام نووی علیہ الرحمہ نے ’’ کتاب الاذکار‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان قوتوں سے استفادہ تادم مرگ قائم اور صحیح رکھئے ، یعنی ہوش وحواس دم اخیر تک قائم رہیں ، جبھی ان سے استفادہ صحیح طور سے ممکن ہوسکے گا ، گویا خود یہ قوتیں بھی قائم اور باقی رہیں ، اور عقل وہوش بھی باقی رہے ، کہ ان سے استفادہ درست رہے۔
وَاجْعَلْ ثَارَنَا عَلیٰ مَنْ ظَلَمَنَا: ثار کہتے ہیں ظلم کے انتقام کو ، مظلوم کو اپنے ظلم کے انتقام لینے کی طاقت کہاں ہے؟ پھر کیوں نہ خدا ہی کے حوالے کرے، اور خود بیٹھا انتقام کا