تماشہ دیکھے ، دست دعا دراز کررہے ہیں کہ کسی نے ہم پر ظلم کیا تواس پر ہمارا انتقام مسلط کردیجئے۔
وَانْصُرْنَاعَلیٰ مَنْ عَادَانا: اور جس کسی کو ہم سے عداوت ہو ، اس کیلئے مقابل میں ہماری مدد فرمائیے ، ظلم اور دشمنی کا اس سے بہتر کیا علاج ہوگا؟
وَلَاتَجْعَلْ مُصِیْبَتَنَا فِیْ دِیْنِنَا: مصیبت تو آنی ہے ، لیکن دین میں نہ آئے ، دین میں مصیبت دین کو نقصان پہونچائے گی ، دنیا کی مصیبت دنیا کو نقصان پہونچائے گی ، دنیا کانقصان گوارا ہے ، کیونکہ اس میں اگر نقصان ہوگا ، تو فائدے بھی بہت ہوں گے ، مگر دین کی مصیبت وہ ہے جو اﷲ کو ناراض کردے گی ، اس لئے اسے مصیبت سے محفوظ رکھئے ، یہ ہے دنیا پر دین کی ترجیح !
وَلَاتَجْعَلِ الدُّنْیَا أکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَامَبْلَغَ عِلْمِنَا:عموماً دیکھا جاتا ہے کہ آدمی کی تمام ہمت اور حوصلہ حصول دنیا میں صرف ہوتا ہے، انسان کو سارا اہتمام، ساری فکر، تمام سوچ دنیا ہی کے لئے ہوتی ہے ، آدمی ہر پھر کر دنیا ہی کی فکر میں سرگرداں رہتا ہے ، اس لئے اس کا تمام علم اور ساری معلومات دنیاوی چیزوں کے متعلق ہوتی ہے ، دنیا وکسب دنیا کے متعلقات میں کمال درجہ کا علم رکھتا ہے ، لیکن دین وایمان ، معرفت ومحبت کی معلومات صفر ہوتی ہیں ، حق تعالیٰ سے مانگا گیا کہ ہمارا سارا حوصلہ ، ساری فکر دنیا ہی سے متعلق نہ ہو ، اور نہ ہمارے علم کا کل تعلق دنیا ہی سے ہو۔
وَلَاتُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لَّا یَرْحَمُنَا: ہم پر ایسی حکومت،ایسی طاقت ، ایسے افراد نہ مسلط ہوں جو ہم پر رحم نہ کریں ،ظالم اور بے رحم حکومت ، بے مروت اور خود غرض ذمہ دار سے ہم کو بچائیے۔
یہ بہت جامع دعا ہے ، اس دعا میں تمام انسانی مجبوریوں کاعلاج ہے، اوردرجات کمال کے حصول کا سبب ہے ، جی چاہتا ہے کہ کوئی مسلمان اس دعا سے خالی نہ رہے۔ واﷲ الموفق ٭٭٭٭٭ (نومبر، دسمبر ۲۰۰۸ء)