بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
صدائے دل
’’میری عین خواہش اوردعا یہی رہی ہے کہ تم لوگ سچے طالب علم بن کر حصول علم میں کوشاں رہو ، علم صرف ذہانت وذکاوت ہی سے نہیں ملتا ممکن ہے دنیا کا علم اسی طرح حاصل ہوتا ہو لیکن جس کو میں علم کہتا ہوں اس کا حساب وکتاب اور ہے ، یہ ضرور ہے کہ ذہانت ممدومعاون ہے ، اس سے راہِ علم میں سلوک کی سہولت ہوتی ہے ، تاہم اس کی حیثیت اَساسی اور بنیادی نہیں ہے ، دین کا علم زیادہ تر خلوص نیت ، عزم وعمل اور مسلسل محنت وکاوش سے حاصل ہوتا ہے ، ہم نے بہت سے ذہین دیکھے ہیں جو درمیا ن میں گرپڑکے ختم ہوگئے، وہ نہ تو اپنے علم سے خود فائدہ اٹھاسکے ، اور نہ ہی دوسروں کو کچھ دے سکے ، اور بہت سے غبی ، کندذہن جن کو حصول علم کے زمانہ میں اساتذہ کے نزدیک بالکل وقعت حاصل نہ تھی ، وہ اپنے اپنے دور کے شمس العلماء بنے ۔
آج ضرورت بہت زیادہ ذہین علماء کی نہیں ، ایسوں کی ضرورت ہے جن کے پاس علم کے ساتھ فراست ایمانی بھی ہو ، اور یہ فراست حاصل ہوگی تصحیح نیت سے ۔ میرے عزیزو! مجھے اس وقت سخت تکلیف ہوتی ہے جب میں سنتا ہوں کہ عربی پڑھنے والا طالب علم کسی سرکاری ملازمت کے لئے جدوجہد کررہا ہے ، یا وہاں چلا گیا ہے ، میرے نزدیک یہ چیز غلط نہیں ہے ، بلکہ میں اس کو محمود سمجھوں اگر یہ اس نیت سے کیاجائے کہ سرکاری اداروں میں ہمیں دین کی خدمت کے جو مواقع میسر ہوں گے ان سے دریغ نہ کریں گے ، بلکہ سچے دین کی سچی خدمت میں مصروفِ کار رہیں گے ۔ پھر یہی کام ذخیرۂ آخرت بن جائے گا مگر تم جاننے والوں کے احوال کو پرکھو ، جانچو ، دیکھو کتنوں کی نیت یہ رہتی ہے اور کتنے اس قسم کااقدام کرتے ہیں ، تو کیا ایک مسلمان ذی علم کے سامنے حصولِ زر کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں ہے ، کیا وہ اسی لئے علم دین حاصل کررہا ہے کہ اس کے عوض میں معمولی متاع دنیا خریدے گا ، اگر یہی ہے تو پھر اس میں اور علمائے یہود میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے، جن کی مذمت قرآن میں تم پڑھ چکے ہو ۔ إشتروا بآیات اﷲ ثمناً قلیلاً
درحقیقت یہ اس دور کا ایک بڑا المیہ ہے کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں زمانے کی باگ ڈور ہونی چاہئے تھی وہ مذہب کی قبا تارتار کرکے اس کی دھجیاں فروخت کررہے ہیں ۔ فواأسفاہ دل جلتا ہے ، طبیعت سلگتی ہے لیکن کون جانے دل کا حال !