جو ہم پر رحم نہ کرے ۔
دعا کے یہ الفاظ اور دعا کا یہ اُسلوب پیغمبرانہ معجزہ ہے ، مختصر تشریح ملاحظہ فرمائیے ، اور اس دعا کو یاد کرلیجئے ، اور اسے دل سے اور زبان سے اﷲ کے حضور پیش کرتے رہئے۔
اَلّٰلھُمَّ اقْسِمْ لَنَامِنْ خَشْیَتِکَ مَاتَحُوْلُ بِہٖ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعَاصِیْک : خشیت اس خوف کو کہتے ہیں ، جو عظمت اور محبت کے نتیجے میں انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے ، اس خوف میں وحشت اور فرار نہیں ہے ، بلکہ کشش اور محبت ہے ، معرفت ہے ، لیکن اس خشیت کا حاصل ہونا بھی اﷲ ہی کی جناب سے ہوتا ہے ، پس انھیں سے گزارش کی گئی ہے کہ اپنی خشیت کا اتنا حصہ عطا فرمادیں ، جس کی بنیاد پر گناہوں سے رکاوٹ ہوجائے ۔اسلوب دیکھئے ، یہ نہیں فرمارہے ہیں کہ وہ خشیت گناہوں سے روک دے ، بلکہ یہ عرض کررہے ہیں کہ یااﷲ! آپ ہمارے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجائیے ، واقعہ یہی ہے کہ گناہوں سے بچانے والی ذات اﷲ ہی کی ہے ، پس ان کی طرف نسبت کرنا توحید کی کمالِ رعایت ہے ، ہاں ظاہری سبب کے درجے میں خشیت کا دخل ضرور ہے ، یہی اسلوب اس کے بعد دعائیہ جملوں میں بھی ہے۔
وَمِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ جَنَّتَک: کمال اطاعت وفرمانبرداری کااحاطہ کمزور انسان سے کیا ہوسکتا ہے ، لیکن اتنی طاعت ضرور عطا فرمادیجئے، کہ اس کی بدولت ، آپ ہمیں جنت میں پہونچادیجئے ، خشیت کے ذریعے جہنم سے بچاؤ ہوگا ، اور طاعت کی برکت سے حق تعالیٰ جنت کا داخلہ عطا فرمائیں ، یہی دونوں باتیں انتہائے مقصود ہیں ۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ، ۃسورہ آل عمران : ۱۸۵) تو جو کوئی آتش دوزخ سے ہٹادیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، تو کامیابی تو اسی کی کامیابی ہوئی ، اور دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ ایک کارخانۂ فریب ہے۔
َ وَمِنَ الْیَقِیْنِ مَا تَھَوِّنُ عَلَیْنَا مُصِیْبَاتِ الدُّنْیَا : اس کارخانۂ دنیا میں مصائب