حقیقت یہ ہے کہ صحیح احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان رکھنے کی بات محض مغالطہ ہے ، منکر حدیث قرآن مجید نہیں بلکہ قرآن کے خود ساختہ مطلب پر جو اپنی خواہش نفس کے تقاضے سے اخذ کرتا ہے ،ایمان رکھتا ہے، اور اسی پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، اس طرح وہ قرآن کی طرف نہیں بلکہ اپنے بیان کئے ہوئے مطلب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کھلی ہوئی گمراہی ہے۔
جہالت کے ساتھ ادعاء علم :
مذکورہ گمراہیوں کے علاوہ ہمارے زمانہ میں گمراہی کی ایک اور نئی مگر قابل شرم قسم بھی پیدا ہوگئی ہے وہ ہے علم نہ رکھنے کے باوجود دعویٔ علم ۔قاعدہ ہے اور سارے عالم کا مسلّمہ اصول ہے کہ علم خواہ کتنا ہی معمولی ہو، کسی استاذ کی خدمت میں رہ کر سیکھنا پڑتا ہے ، اسی اصول کی بناء پر قدیم زمانے سے مکاتب ومدارس کا رواج ہے ، اور آج بھی تمام تر بے اصولی اور بے تکے پن کے باوجود اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کانظام اہتمام کے ساتھ چلا یا جارہا ہے۔ دنیاوی علوم میں کسی کو یہ خبط نہیں ہوتا کہ محض مطالعہ کے زور پر ان علوم کے ماہرین پر نقد وتبصرہ شروع کردے ، اور اگر کسی نے اپنے مطالعہ کے بل پر کسی علم کو کچھ سمجھ بھی لیا تو ماہرین کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں کرتا ۔ یہ دنیا کا اتنا مسلم قاعدہ ہے کہ کوئی احمق سے احمق انسان بھی اس سے اختلاف نہیں رکھتا ، ان تعلیم گاہوں پر قوم کا، حکومت کا کتنا بڑا سرمایہ خرچ ہوتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ،لیکن آج تک کسی نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ ان دانش گاہوں کو بند کردوسرمایہ ضائع نہ کرو، ذہین افراد خود مطالعہ کے زور پر ان علوم کو حاصل کرلیں گے۔
لیکن مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہوگیا جس کو دینی علوم میں یہ قاعدہ تسلیم نہیں ہے اس کا خیال ہے کہ اگر کسی نے باقاعدہ کسی تعلیم گاہ میں وقت ، عمر اور مال خرچ کرکے علوم کی تحصیل کی ہے ، اساتذہ سے پڑھا ہے، یکسو ہوکر اپنے کو محض علم کے حوالے ایک مدت تک کررکھا ہے اسے دین کی سمجھ حاصل نہیں ، وہ قرآن وسنت کا مفہوم نہیں سمجھتا لیکن