إلا قلیلاً}علم کا بہت تھوڑا سا حصہ تمہیں دیا گیا ہے،لیکن موصوف فرماتے ہیں کہ اﷲ نے وہ سب کچھ سکھایا،جو انسان نہیں جانتا تھا۔ کتنا فرق ہے کلام الٰہی میں اور دعویٔ انسانی میں ؟
حضرت نوح ں نے بے شک کشتی بنائی تھی،اور اﷲ کے حکم سے بنائی تھی، اس کے بنانے کی ضرورت تھی، عذاب آنے والا تھااس سے حفاظت کیلئے بنائی تھی، لیکن کیا کسی اشارے سے بھی یہ بات ملتی ہے کہ کشتی بنانے کا فن کوئی دینی اور انبیائی علم ہے، کیا حضرت نوح ں نے یا ان کے بعد کسی بھی نبی نے اپنی امت میں بطور علم دین کے اس کو رواج دیا، یا اس کی ترغیب دی ،حضرت نوح ں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دین کی دعوت دی تھی، کیا اس دعوت کا کوئی جز یہ بھی تھا کہ فن کشتی سازی سیکھو؟
حضرت داؤد ں کیلئے اﷲ تعالیٰ نے لوہا نرم کردیا تھا، یہ ان کا معجزہ تھا،شعبداتی اور کراماتی ذہن والوں سے نہیں متعدد تابعین جن میں حضرت حسن بصری،قتادہ اور اعمش شامل ہیں مروی ہے کہ لوہا ان کے ہاتھ میں آکر نرم ہوجاتاتھا(دیکھئے’’تفسیر ابن کثیر‘‘)اور اگر لوہا ان کے ہاتھ میں نرم ہونے سے یہی مراد ہے کہ وہ لوہے کو بھٹیوں میں پگھلاتے تھے، اوراس مقصد کیلئے انھوں نے بھٹیاں بنوارکھی تھیں ،تو یہ کون سی خاص بات ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اتنے اہتمام سے بطور احسان کے بیان کیا ہے، اسطرح کی چھوٹی بڑی بھٹی تو ہر لوہار کے پاس ہوتی ہے،اور داؤدں کے زمانے سے پہلے بھی ہواکرتی تھی ، کیونکہ لوہے کے ہتھیاروں کا استعمال بہت پہلے سے عام ہے،قرآن کی شہادت ہے کہ داؤد ں سے صدیوں پہلے، یوسف ں کے دور میں زنانِ مصر کے پاس چھریاں تھیں ، جن سے انھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے، ظاہر ہے کہ بغیر ان بھٹیون کے جن میں لوہا تپایا اور گلایا جائے، چھری بنانے کی کوئی اور صورت نہیں ہے، یہ ساری افسانہ طرازی انھوں نے اسلحہ سازی کے فن کو دینی علوم میں شا مل کرنے کی غرض سے کی ہے، مگر دونوں باتیں غلط ہیں ، اس فن کو علوم دین میں شامل کرنا بھی اور یہ افسانہ طرازی بھی، کہ انھوں نے لوہا گلانے کے لئے بھٹیاں بنارکھی تھیں ۔