کأنک تراہ فإن تکن تراہ فإنہ یراک)
اس مجموعے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دین کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کا اﷲ تعالیٰ سے ربط صحیح ہو، اس مقصد سے متعلق جو علوم ہوں گے ، وہی علوم دین ہوں گے۔ اس پرتمام امت کا اجماع ہے، ا ب تک امت میں کسی معتبر عالم نے ان علوم دنیا کو جنھیں موصوف نے علوم دین میں داخل کرنا چاہا ہے، اور جن کے اختیار نہ کرنے کو علماء کی غلطی قرار دیا ہے۔ دینی علوم میں شامل نہیں کیا ہے، پس یہ بنیاد اور مقصد ہی سرے سے غلط ہے ۔بلکہ گمراہ کن ہے۔
رہی یہ بات کہعلّم الانسان مالم یعلم، انسان کووہ سب کچھ سکھایا ،جووہ نہیں جانتا تھا، اور یعلمکم مالم تکونوا تعلمون، تم کو وہ سب کچھ سکھاتے ہیں ،جو تم نہیں جانتے،تو یہ قرآن کے ترجمے میں اپنی رائے سے بغیر کسی دلیل کے ایک بے جا اضافہ ہے۔ ان دونوں آیتوں میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جس کا ترجمہ سب کچھ کیا جائے،اسی سب کچھ سے موصوف نے استدلال کیا ہے، کہ تمام علوم وفنون انبیائی علوم کے دائرے میں آتے ہیں ، یہ ’’سب کچھ‘‘ قرآن میں نہیں ہے، کیونکہ ما اگر چہ عام ہے،مگر وہ اثبات میں استغراق کیلئے نہیں آتا ۔یعنی’’سب کچھ‘‘ اس کے عموم میں شامل نہیں ہوتا ،اور موصوف کے استدلال کی بنیاد یہی’’سب کچھ‘‘ ہے، پس یہ استدلال قرآن سے نہیں ، ان کی اپنی رائے سے ہے،مگر ان کے بیان سے ایسا تاثر ہوتا ہے ،جیسے وہ قرآن ہی سے استدلال کررہے ہوں ۔
علماء جانتے ہیں استدلال کی یہ فن کاری کن لوگوں کا شیوہ ہے۔ {وان منہم لفریقا یلوٗن السنتہم بالکتاب لتحسبوہ من الکتاب وما ھو من الکتاب ویقولون ھو من عند اﷲ وما ھو من عند اﷲ ویقولون علی اﷲ الکذب وھم یعلمون} اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ، جو کتاب کو پڑھنے میں زبان کو توڑتے مروڑتے ہیں ، تاکہ تم یہ سمجھو کہ یہ بات بھی کتاب اﷲ ہی کی ہے حالانکہ کتاب سے اس کا تعلق نہیں ہے، اور کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہے، اور اﷲ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے،{وماأوتیتم من العلم