یہ ہے ندوی صاحب کی تقریر کا حاصل ،جس کو انھوں نے تفصیل کے ساتھ خطیبانہ آہنگ میں بیان کیا تھا،مگر واقعہ یہ ہے کہ ندوی صاحب کا دعویٰ بھی غلط ہے، اور ان کا استدلال بھی غلط درغلط ہے، اختصار کے ساتھ قدرے تفصیل ملاحظہ ہو۔
(۱) یہ دعویٰ کہ انبیائی علوم اور دینی علوم کا دائرہ اتنا وسیع ہے ، کہ اس میں دنیاوی علوم وفنون بھی شامل ہیں ، ایک ایسا دعویٰ ہے، جو علمائے امت میں اب تک کسی نے نہیں کیا ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ ،انبیاء جو علوم اﷲ کے پاس سے لائے ہیں ، اور جس کی انھوں نے دعوت دی ہے، وہ علوم ہیں ، جن سے بندوں کا ربط اﷲتعالیٰ کے ساتھ درست اور استوار ہو، چنانچہ حدیث جبرئیل ں میں رسول اﷲ انے تینوں سوالات کے جو جوابات دئے ہیں ، جن کے مجموعے کو موصوف نے بھی ’’الدین‘‘ہونے کا اعتراف کیا ہے، اس میں کہیں دنیاوی علوم کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں ہے۔
اسلام کیا ہے ؟کے جواب میں رسول اﷲا نے ارشادفرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی شہادت دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور محمد(ﷺ) اﷲ کے رسول ہیں ،اور یہ کہ نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کا روزہ رکھو، اور اگر استطاعت ہو تو حج بیت اﷲ کرو۔(الاسلام أن تشھد أن لاإلٰہ إلااﷲ وأن محمداً رسول اﷲ،و تقیم الصلٰوۃ ،وتؤتی الزکوٰۃ،وتصوم رمضان، وتحج البیت إن استطاع إلیہ سبیلاً)
اور ایمان کیا ہے؟ کے جواب میں آپ نے فرمایا :اﷲ پر ایمان لاؤ،اور اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر،اس کے رسولوں پراور یوم آخرت پرایمان لاؤ، نیز تقدیر پر اس کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔(أن تومن باﷲ وملٰئکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ والیوم الآخر وتومن بالقدر خیرہٖ وشرہٖ)
اور احسان کیا ہے؟ کے جواب میں فرمایا کہ اﷲ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم خداکو دیکھ رہے ہو،اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ،تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔(أن تعبد اﷲ