{وألنا لہٗ الحدید} ہم نے ان کیلئے لوہا نرم کردیا، موصوف نے کہا کہ لوہے کو نرم کرنے کا مطلب شعبداتی ذہن اور کراماتی مزاج رکھنے والوں کے نزدیک یہ ہے کہ لوہا ان کے ہاتھ میں آکرموم کی طرح نرم ہوجاتا تھا، اور وہ اسے جس طرح چاہتے تھے موڑدیتے تھے، مگر یہ غلط ہے، واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے بڑی بڑی بھٹیاں ، لوہے کوتپانے اور گلانے کیلئے بنا رکھی تھیں ، ان میں لوہا گلاکر زرہیں بنائی جاتی تھیں اور ہتھیار ڈھالے جاتے تھے، یہ فن حضرت داؤدں پر اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا، پس یہ بھی انبیائی علوم میں شامل ہے، جس کا احیاء کرنا ہماری ذمہ داری ہے،
پھر انھوں نے حضرت سلیمانں کاذکر چھیڑاکہ وہ جناتوں سے بڑی بڑی بلڈنگیں ،مجسمے، کوہ پیکر دیگیں اور لگن بنوایا کرتے تھے، ان کے پاس ایک زبردست بحری بیڑہ تھا، جس کی رفتار صبح وشام ایک ایک ماہ کی مسافت کے بقدر تھی،{غدوّھا شھرٌ ورواحھا شھــرٌ}
بلڈنگوں کی تعمیر،مجسموں کی صنعت، لگن اور دیگیں بنانے کا فن، اور بحری بیڑے بنانے کی تکنیک، یہ سب انبیائی علوم میں شامل ہیں ، پھر آخر میں رسول اﷲ ا کا تذکرہ کیا کہ آپ کے پاس وہ سب ہتھیار تھے، جو دوسرں کے پاس تھے، بلکہ وہ ہتھیار بھی تھے، جو اوروں کے پاس نہ تھے، چنانچہ منجنیق اور دبابہ کو آپ نے غزوۂ طائف میں استعمال کیا تھا، یہ ہتھیار عربوں کے پاس نہ تھے ،اس سے معلوم ہواکہ اسلحہ سازی کا فن انبیائی علوم میں داخل ہے، ہم نے غلطی سے اپنا دائرہ محدود کر کے علوم دین کو چند علوم میں منحصر کردیا ہے، یہ بہت بڑی غلطی ہے، انھیں علوم کے فقدان نے ہم کو دنیا میں ذلیل، اور شکست سے دوچار کررکھا ہے۔ ہمارے علماء نے غلطی سے علوم دینیہ کو صرف انھیں چیزوں میں محدود کردیا ہے، جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہیں ، حالانکہ وہ علوم بھی انبیائی علوم ہیں ، جنھیں ہم نے کالجوں ، یونیورسٹیوں کے حوالے کردیاہے ، اور جنھیں ہم دنیاوی علوم کہتے ہیں ، ان سب کو ہمارے دائرۂ عمل میں آنا چاہئے،ہماری ذلت کا ایک بڑا سبب یہ علوم دین اور علوم دنیا کی تفریق ہے۔