تعلمون}جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تمہارے ہی درمیان سے بھیجا، وہ تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے، اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے، اور تم کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور وہ سب کچھ تم کو سکھاتا ہے ،جو تم نہیں جانتے تھے۔
پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ جو کچھ انسان نہیں جانتا تھا، اﷲ نے اسے وہ سب کچھ سکھادیا ہے، اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جو کچھ پڑھے ، اﷲ کے نام سے لگ لپٹ کر پڑھے،جو کچھ بھی اس طرح پڑھا جائے گا ، وہ سب ’’العلوم‘‘ میں داخل ہوگا۔
دوسری آیت سے معلوم ہوا کہ پیغمبرں کا منصب جہاں یہ ہے کہ وہ ’’تلاوت آیات‘‘ کریں ، ’’تزکیۂ نفوس‘‘کریں ، کتاب وحکمت کی تعلیم دیں ، اسی طرح ان کا منصب یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں وہ سب کچھ سکھائیں ، جو تم نہیں جانتے، یعنی دنیوی علوم وفنون، جن کا تعلق اسباب دنیا سے ہے، جن کی ضرورت انسانی زندگی میں ہوتی ہے، آلات جنگ وغیرہ بنانے کا علم، جن سے اقوام وممالک کو فتح اور زیر کیا جائے وغیرہ۔
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ ’’علوم دین‘‘ صرف اتنے ہی میں منحصر نہیں ہیں ، جو ہمارے مدرسوں میں پڑھائے جاتے ہیں ، ہم نے ایک عرصہ کی غلامی کے نتیجے میں ’’العلوم‘‘ کو تفسیر وحدیث اور فقہ میں محدود کردیا ہے، ورنہ انبیائی علوم کا دائرہ بہت وسیع ہے، ہم نے اس وسیع دائرہ کے ایک بہت مختصر جز کو لے لیا ہے، اور باقی علوم کو اس دائرے سے خارج کردیا ہے،
موصوف نے مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت نوح ں کی ذات گرامی کو پیش کیا کہ انھیں اﷲ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ ایک ماہر کاریگر تھے، وہ کشتی بنانے کا فن جانتے تھے ،انھوں نے اﷲ تعالیٰ کی نگرانی میں ایک عظیم الشان کشتی بنائی، معلوم ہوا کہ یہ فن بھی انبیائی علوم کے دائرے میں آتاہے، مگر ہم نے اسے بھی دوسروں کے حوالے کررکھاہے۔
پھر انھوں نے حضرت داؤد ں کا اسم گرامی پیش کیا،اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے