برکت مال میں بھی ہوتی ہے، وقت میں بھی ہوتی ہے، آل اولاد میں بھی ہوتی ے، اعمال میں بھی ہوتی ہے، قلوب اور ارادوں میں بھی ہوتی ہے، اور جہاں برکت آتی ہے وہاں آدمی کو کامیابی بھی ملتی ہے، اوردل کا اطمینان وسکون بھی ملتا ہے۔ رسول اﷲ ا نے ایک دعا اپنی امت کو تعلیم فرمائی ہے، وہ دعا بہت سے مقاصد کو مشتمل ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، فرماتے ہیں : اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ اَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَاَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْرَّحِیْمُ۔ اے اﷲ ! آپ ہمارے لئے ہمارے کانوں میں ، نگاہوں میں ، ہمارے دلوں میں ، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرمائیے، اور آپ ہم پر رحمت ومغفرت والی توجہ فرمائیے، بلاشبہہ آپ توجہ فرمانے والے ، رحمت والے ہیں ۔
اس دعا سے معلوم ہوا کہ برکت کان میں بھی ہوتی ہے ، آنکھ میں ہوتی ہے ، دل میں بھی ہوتی ہے ، وہ یہ کہ یہ اعضاء آخر تک صحیح وسالم اور بعافیت رہیں ، اور کام ہی کی باتیں کان میں اور کام ہی کی چیزیں نگاہ میں ، اور اچھے صاف ستھرے خیالات اور ارادے دل میں رہیں ۔ دل الجھنوں سے ، تشویش سے، آج کی اصطلاح میں ’’ ٹینشن‘‘ سے پاک رہے ، یہ دل کی برکت ہے ، پھر بیوی بچوں میں بھی برکت ہوتی ہے ، وہ یہ کہ انھیں دیکھ کر ، ان کے درمیان رہ کر آدمی روح کا سکون پائے ، یہ مطیع وفرمانبردار ہوں ، باادب اور محبت کرنے والے ہوں ، جیسے یہ سب برکتیں ہیں ،ا سی طرح وقت میں بھی برکت ہوتی ہے، وقت بظاہر تھوڑا ہوتا ہے، مگر کام بہت ہوتا ہے، وقت کی بے برکتی یہ ہے کہ آپ اپنی کسی حاجت میں نکلے ، دن بھر متعلقہ جگہوں کا چکر لگایا، مگر کام نہیں ہوا، کبھی وہ آدمی نہیں ملا، جس سے کام ہونا تھا، کبھی ملا تو وہ خود پریشانی میں تھا، کبھی اور کوئی مجبوری سامنے آگئی، اور برکت یہ ہے کہ آپ کو ضرورت پیش آئی اور گھر بیٹھے اس کا انتظام ہوگیا ، یا حرکت وعمل کی ضرورت پڑی ، مگر مختصر سی کاوش کے بعد وہ کام پورا ہوگیا، پھر سارا وقت دوسرے کاموں کے لئے بچ گیا۔ ایک جگہ ایک نیک آدمی تھا ، مٹھائی بناکر بیچتا تھا ، وہی ذریعہ معاش تھا ، وہ رات کے حصے میں اپنے گھر والوں کی مدد سے ایک خاص مقدار میں مٹھائی بنالیتاتھا، صبح وقت پر دکان کھولتا تھا، اور اسی