بہت دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ فرصت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں ، وہ اپنے اوقات کو ایسے کاموں ، ایسی باتوں اور ایسی جگہوں میں بے تحاشا صرف کرتے ہیں جن میں ’’ لذت نفس‘‘ کے علاوہ اور کوئی بات حاصل نہیں ہوتی، لایعنی باتیں ، بلکہ گناہ کی باتیں ، بے مقصد سیر وتفریح ، بلکہ ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ فلاں جگہ اچھی چائے ملتی ہے، تو وہاں جارہے ہیں ، فلاں جگہ پان اچھا ملتا ہے ، تو وہاں چلے جارہے ہیں ، گویا لذت نفس کی جستجو میں دوڑے پھرتے ہیں ، پھر جن چیزوں میں نفس کی لذت نہیں ہے ان کے لئے فرصت کہاں سے آئے ، وقت ملے تو کیسے ملے؟ آپ کہیں گے کہ یہ خصلت بچوں اور نوجوانوں کی ہے ؟ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ بچہ اور نوجوان جن لذائذ نفس پر پختہ ہوگا ، کیا ادھیڑ عمر میں یا بڑھاپے میں اس سے نجات مل جائے گی ، کل کا نوجوان جن عادتوں میں پلا بڑھا ہے، آج کا ادھیڑ اور بوڑھا انھیں عادتوں میں محصور ہے ۔ یہ ’’لذت نفس‘‘ انسان کے لئے دوست نہیں دشمن ہیں ، یہ ہر کمال کے حصول میں رکاوٹ ہیں ، ان میں آدمی مال بھی برباد کرتا ہے، اور وقت کو بھی تباہ کرتا ہے، اور نتیجے میں اﷲ کو بھی ناراض کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے سے تربیت نام کی چیز رخصت ہوگئی ہے ، بچہ اگر کچھ کماکر لارہا ہے تو پھر وہ آزاد ہے، جو چاہے کرے، کسی کو فکر نہیں کہ وہ کس راہ پر جارہا ہے ، اورگھر میں مال کی بہتات ہے تو ناز برداریاں ہیں ، کہاں کی تربیت اور کہاں کی روک ٹوک! پھر یہی بچے انھیں آزادیوں اور گناہوں کو لئے عمر کی پختگی کو پہونچتے ہیں تو یہ عادتیں بھی پختہ ہوجاتی ہیں ، پھر دنیا کی ضروریات ، تقاضے انھیں گھیر لیتے ہیں ، تو وہ مجبوراً ’’ کسب مال‘‘ میں لگتے ہیں ، اور کسب مال کے دھندے سے کچھ فراغت ہوتی ہے تو پچھلی عادتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں ، ان مشغولیتوں کے درمیان ظاہر ہے کہ طاعات وعبادات یا مطالعہ علم کی کہاں فرصت؟
ان بے معنی بلکہ گناہ کے مشاغل کی نحوست یہ ہوتی ہے کہ وقت کی برکت ختم ہوجاتی ہے، کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے ،واقعہ یہی ہے کہ ایمان والے کاکام ظاہری وسعت وگنجائش سے نہیں بنتا، بلکہ اس راس المال ( اصل سرمایہ ) خدا کی طرف سے برکت ہے،