سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کے سینے فکر آخرت سے معمور اور جن کی نگاہیں علمی ذخائر کی جستجو میں مشغول ہیں ۔ انھیں شوق ہے کہ قرآن وسنت کا علم انھیں حاصل ہو، ایسے لوگوں کے حق میں ناانصافی ہوگی اگر ان علمی خزانوں کو عام نہ کیا جائے۔
اسی جذبے کے تحت قصد ہوا کہ حضرت محدث کبیر کی وہ علمی یادگاریں ، جواَب دستیاب نہیں ہیں ، انھیں جدید اُسلوب کے مطابق تحقیقات وتعلیقات کے ساتھ مزیّن کرکے دوبارہ علم وتحقیق کے قدردانوں کے ہاتھوں میں پہونچایا جائے ، چنانچہ یہ کام شروع ہوچکا ہے۔
اسی دوران یہ بھی خیال ہوا کہ ایک علمی ودینی مجلہ حضرت اقدسؒ کی یادگار میں جاری کیا جائے ، جس میں مختلف دینی موضوعات پر تحقیقی مقالات کی اشاعت کے ساتھ ساتھ حضرت کی کتابوں کا تعارف بھی پیش کیا جائے ، اور ان کے وہ قدیم مطبوعہ مقالات ومضامین جو اَب کہیں نظر نہیں آتے ، یا ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں ، انھیں بھی منظر عام پر لایاجائے ، نیز اکابر اور بزرگوں کے احوال وحکایات کی روشنی عام جائے ، تاکہ دلوں سے آخرت فراموشی کی سیاہی دور کی جاسکے۔
غرض ایک ایسا دلآویز اور روح پرور علمی وروحانی مرقع تیار کیا جائے ، جواہل علم وتحقیق کے ذوق بلند کو مزید بلندی بخشے ، اور اس کی ضمانت حضرت اعظمی کے علمی نوادرات وتحقیقات ہیں ، اور محبت ومعرفت کے شیدائیوں کی آسودگی وسیرابی کا سامان مہیا کرے ، نیز مسلمانوں میں صحیح علمی ودینی ذوق بیدار کرے ، اور اگر کسی طرف سے مسلک حق اور مذہب اہل حق پر آنچ آنے کا اندیشہ ہوتو اسے دور کرنے اور قلوب کو مطمئن کرنے کا فریضہ بھی انجام دے۔
دلوں میں خیالات آئے ، احباب سے مشورے ہوئے ، اہل علم نے ہمت افزائی کی ، گو علم کے اس کساد بازاری کے دور میں بالخصوص ہمارے ملک میں جہاں اردو پڑھنے والوں ہی کی تعدادکتنی ہے ؟ پھر ان میں سے دین اور علم دین ے دلچسپی رکھنے والے کتنی محدود