بارگاہِ خداوندی سے اور اپنی محبت وعشق کی داد وتحسین بارگاہِ رسالت سے پارہے ہوں گے ، محدثین کبار کی ارواحِ مقدسہ نے ان کا استقبال کیا ہوگا ، جس طرح ان کے جنازے میں لاکھوں روزہ داروں کا ہجوم تھا ، کیا عجب کہ عالم ارواح میں بھی لاکھوں ارواحِ طیبہ اور نفوسِ قدسیہ نے ان کو خوش آمدید کہا ہو۔
جانے والا اس دنیا کو ۔۔۔۔۔۔رنج ومِحن سے بھری دنیا کو ۔۔۔۔۔۔ خیرباد کہہ کر چلا گیا ، لیکن وہ اپنے بعد والوں کو علم کا بے بہا خزانہ دے گیا ۔ حضرت محدث اعظمی کے علمی کارناموں کو بہت سے لوگ شاید تفصیلاً نہ جانتے ہوں گے ، کیونکہ وہ خاموش اور بے نیاز طبیعت کے مالک تھے ، وہ علم وفضل کی نمائش کے فن سے واقف نہ تھے ، وہ نام ونمود اور تمنائے ستائش سے ہمیشہ دور رہے ، وہ ابتداء ہی سے فقیرانہ زندگی کے عادی تھے اور اخیر تک اسی حالت پر قائم رہے ۔ ان کی ظاہری حالت دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں کرسکتاتھا کہ وہ علم کے کیسے ’’ جبل عظیم ‘‘ کے سامنے موجود ہے ، لیکن ان کی تحریرات ، ان کے مضامین ، ان کی حدیثی تحقیقات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ، جیسے وہ ہماری صدی کے آدمی نہ ہوں ، وہ حافظ شمس الدین ذہبی اور حافظ ابن حجر وغیرہ کے دور کے آدمی تھے ، ان کے حافظے کی گہرائی اور مطالعہ کی وسعت کو دیکھ کر اگلے محدثین یاد آجاتے ہیں ۔ وہ اس دور میں اسلام کی حجتِ بالغہ تھے ، ۱۱؍ رمضان ۱۴۱۲ھ کوروزہ دار مسلمانوں نے محض ایک شخصیت کو نہیں دفن کیا ، بلکہ پوری ایک امت کو دفن کیا ،ا ور علم وتحقیق کے مکمل کتب خانہ کو تہِ خاک چھپایا۔
مولانا کے وصال کے بعد دلوں میں یہ بات بہت شدت کے ساتھ آئی کہ انھوں نے جن علمی ذخائر کو اپنی میراث چھوڑا ہے ، ان کی حفاظت کی جائے ، ان کی اشاعت کی جائے ، کیونکہ ان کی اشاعت عین دین کی اشاعت ہے ، ان کا تعارف کرایا جائے ، گوکہ آج کی دنیا ، دنیاداری کی دوڑ میں اتنا آگے بڑھتی جارہی ہے ، کہ خالص اُخروی چیزوں کی قیمت اس کے آگے گرتی جارہی ہے ، دنیا کی چمک دمک نے نگاہوں کو خیرہ کررکھا ہے ، آخرت فراموش ہوتی جارہی ہے ، لیکن غفلت وخدافراموشی کے اس سنّاٹے میں آج بھی اﷲ کے فضل