امت کے تعامل نے تراویح کی بیس رکعتوں میں ایک قرآن پاک کی تکمیل کا معمول بنایا ،تاکہ ہر مسلمان کے حق میں ایک ختم کا اس ماہِ مبارک میں اہتمام وانتظام ہوجائے۔
سوال! قرآن پاک کی تلاوت تو صرف امام کرتا ہے تو اس کا تو ایک ختم ہوا ۔ مقتدیوں کا کیونکر ہوگا؟ جواب! قربان جائیے حق تعالیٰ کی شانِ رحمت وحکمت کے ، اور فداہوئیے نبی کریم اکی شفقت ومہربانی پر! آپ نے امت کے لئے ہر خیر کا انتظام فرمادیا ہے ، آپ جانتے تھے کہ آپ کی امت کا ہرفرد پڑھا لکھا نہ ہوگا اور نہ ہر ایک کا حوصلہ ہوگا کہ وہ کتاب اﷲ حفظ کرے اور اسے تراویح کے اندر پورا پڑھے ، پس عالم غیب کے رازداں نے حکم الٰہی کا اشارہ پاکر ایک ایسا قانون بنادیا کہ ہر پڑھا لکھا اور اَن پڑھ اس سے یکساں مستفید ہو۔
متعدد صحابۂ کرام مثلاً حضرت انس بن مالک، عبد اﷲ بن عمر، ابوسعید خدری ، ابوہریرہ، عبد اﷲ بن عباس ث سے یہ مضمون منقول ہے کہ رسول اﷲ اکا ارشاد ہے : من کان لہ امام فقرأۃ الامام لہ قرأۃ ( نصب الرایہ مع الہدایہ ،ج:۲، ص:۱۲) جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت اس مقتدی کی بھی قرأت ہے۔ حدیث کا یہ مضمون بالکل صحیح ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ امام جو کچھ پڑھتا ہے وہ مقتدی کا پڑھنا لکھا جاتا ہے، پس نماز تراویح میں جو لوگ امام کے پیچھے ہوتے ہیں ان کے نامۂ اعمال میں بھی قرآن کریم کی تلاوت درج کی جاتی ہے ، نماز کے اندر قرآن کریم کی تلاوت بہت اہمیت رکھتی ہے، ثواب میں فرض کے برابر ہے ، رمضان شریف خود پُرنور ہے ، اس کے دن میں روزہ اور رات میں کلام الٰہی کی تلاوت نورٌ علیٰ نور کا سماں ہے۔
تلاوت کا دوسرا طریقہ دور کا ہے ، اس طریقے کا آغاز سیّد الملائکۃ حضرت جبرئیل ں سے ہوا ہے، صاحب تفسیر مظہری نے علامہ بغوی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ داؤد بن ابی ہند کہتے ہیں کہ میں نے امام شعبی سے عرض کیا کہ قرآن کا نزول ماہِ مبارک رمضان میں ہوا ہے ، تو کیا سال کے دوسرے اوقات میں اس کا نزول نہیں ہوتا تھا ، فرمایا کیوں نہیں ،