نکلے ، نماز فجر کے بعد آپ نے لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا :
أمابعد ! فانہ لم یخف علی مکانکم ولکنی خشیت أن تفرض علیکم فتعجزوا عنھا، تمہارا رات میں یہاں ہونا مجھ پر مخفی نہ تھا ، لیکن میں ڈرا کہ یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے ، اور اس کے بعد تم سے اس کی ادائیگی نہ ہوسکے، اس لئے میں باہر نہ آیا۔ ( صلوٰۃ التراویح)
جس نماز کی یہ شان ہو ،کون کہہ سکتا ہے کہ درجہ اور رتبہ کے اعتبار سے وہ عند اﷲ فرض سے کم ہوگی ، مزید اگر تراویح کی نماز پر نظر عمیق ڈالی جائے ،تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سال بھر کی فرض وواجب نماز کی مثنیٰ ہے ، یایہ کہہ لیجئے کہ رمضان شریف کی برکت سے سال بھر کی نماز اس ماہ میں دوگنی کردی گئی ہے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ رمضان میں روزہ کی فرضیت کے ساتھ تلاوت کی کثرت بھی مطلوب ہے ، اور تلاوت کااصل محل نماز ہے ، تو ضروری ہوا کہ نماز میں بھی اضافہ کیا جائے ، ہم نے غور کیا کہ عام دنوں میں روزانہ کتنی رکعتیں فرض اور واجب ہیں ؟ تو معلوم ہوا کہ شب وروزمیں بیس رکعتیں ہیں ۔ دورکعت فجر ، چار رکعت ظہر ، چار رکعت عصر ،یہ دن کی نمازیں ہیں ۔ اﷲ کو وتر پسند ہیں ، اس لئے مغرب میں تین رکعت فرض کرکے ان ساری نماز کو طاق بنادیا گیا ، یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں ، رات میں عشاء کی چار رکعتیں فرض ہیں ، اس کے ساتھ وتر ہونا فوت ہورہا تھا تو اس میں بطور وجوب کے تین رکعت کااضافہ کردیا گیا ، اب رات کی نماز بھی وتر ہوگئی ، اس طرح کل بیس رکعتیں ہوئیں ، پھر مناسب ہواکہ یہی بیس رکعتیں رمضان شریف کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے دہرادی جائیں ، چنانچہ تراویح کی نماز کا بیس رکعت ہونا غالباً اسی کی طرف اشارہ ہے، عام دنوں میں مسلمان بطور فرض وواجب کے بیس رکعت چوبیس گھنٹے میں پڑھتے ہیں ،تو رمضان شریف میں جبکہ عبادت کا ذوق بڑھ جاتا ہے ، یہ بیس رکعتیں دوبارہ پڑھ لی جائیں ۔
میں نے عرض کیا تھا کہ نماز تراویح کا اصل موضوع قرآن کی تلاوت ہے ، پس