جس کی رات کے قیام ( تراویح ) کو نفل بنایا ہے۔
نیز رسول اکرم ا نے فرمایا: من قام رمضان ایمانا و احتسابًا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ(بخاری ومسلم ،ابوداؤد ، ترمذی ونسائی) جو کوئی رمضان میں ایمان کے تقاضے سے بہ نیت حصول ثواب عبادت کے لئے کھڑا ہو ، اس کے پچھلے گناہ معاف ۔
تراویح کی نماز کا موضوع تلاوت کلام الٰہی ہی ہے ، چنانچہ قیام کا لفظ خود بتارہا ہے کہ اس میں کھڑا ہونا ہی اصل ہے ، اور معلوم ہے کہ قیام کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت ہی متعین ہے ، پس مناسب ہے ،بلکہ ضروری ہے کہ دن اگر روزہ میں بسر ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے دن کا لمحہ لمحہ کامل عبادت بن گیا ہے ، تو رات کے وقت میں جبکہ اس وقت میں روزہ نہیں ہے نماز اور تلاوت سے اسے معمور اورآباد رکھا جائے۔ حق تو یہ تھا کہ جس طرح رمضان شریف کے دن کی عبادت فرض ہے اسی طرح رات کی عبادت بھی فرض ہوتی ،تاکہ چوبیس گھنٹے کے یہ دونوں حصے برابر ہوتے اور سال کا یہ ایک مہینہ تو ایسا ہوتا کہ نورانیت اور عبادت کی روحانیت میں روز وشب دونوں ایک جیسے ہوتے، مگر حق تعالیٰ نے بندوں کے ضعف پر نظر فرمائی اور رات کی عبادت کو بجائے فرض کے نفل قرار دیا ، لیکن نفل کیسی؟
عام دنوں جیسی؟ نہیں ، فرماتے ہیں : من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ( حوالہ سابق) اس ماہ میں جو کوئی نفل عمل کیا جاتا ہے ،وہ ایسا ہے جیسے اس کے علاوہ کسی ماہ میں فرض ادا کیا ہو۔اور تراویح تو جس شان کی عبادت ہے ، قریب تھا کہ فرض ہی ہوجاتی ، چنانچہ بخاری شریف کی متعدد روایات میں ہے کہ رسول اﷲ ارمضان شریف کی ایک رات مسجد میں تشریف لائے اور آپ نے نفل نماز پڑھی ، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی نماز میں شامل ہوگئی ، جب صبح ہوئی تو اس نماز کا شہرہ ہوا، اب دوسری رات اس سے زیادہ مجمع ہوا، تیسرے دن مزید چرچا عام ہوا ، اوررات میں نمازیوں کا زیادہ ہجوم ہوا، جب چوتھی رات ہوئی تو آپ تشریف نہیں لائے ، صحابہ صبح تک انتظار کرتے رہے اور ساری مسجد بھری رہی ، باہر تک آدمی تھے ، آپ فجر کی نماز کے لئے باہر