میں بیان کی گئی ، اب سنئے کہ اس مناسبت کا تقاضا یہ ہے کہ رمضان شریف کے اوقات کو جس طرح روزہ سے معمور رکھنا اور روشن کرنا ضروری ہے ، اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت سے بھی ان ایام کو پیکر حسن وجمال بنانا ضروری ہے۔
قرآن کریم اور روزہ میں باہم جو تعلق اور مناسبت ہے اسے اس حدیث کی روشنی میں دیکھئے جسے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے حضور اکرم ا سے نقل کیا ہے ، آپ نے فرمایا : الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ ، روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے ۔ یقول الصیام : اے رب ! منعتہ الطعام والشھوۃ فشفعنــی فیہ ، روزہ کہے گا ،اے میرے پروردگار! میں نے اسے کھانے اور شہوت سے روک دیا تھا ، تو آپ اس کے حق میں میری شفاعت سن لیجئے ۔ ویقول القرآن منعتہ النوم باللیل فشفعنی فیہ ، اور قرآن کہے گا کہ میں نے رات میں سونے سے روک دیاتھا ، تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرمائیے۔ قال: فیشفعان ، آپ ا نے فرمایا کہ تب ان دونوں کی شفاعت مقبول ہوگی۔
گویا روزہ اور قرآن دونوں رفیق وہمدم ہیں ، جوکام ایک نے کیا وہی دوسرے نے بھی کیا ، پس بندوں کو بھی چاہئے کہ ان دونوں کو ایک ساتھ رکھیں اور اس کا بہترین موقع رمضان کا مہینہ ہے ، رمضان المبارک ہر خیر وبرکت کا مرکز ہے ،اور روزہ فرشتوں کی صف میں پہونچانے والا ، روزِ قیامت کا بہترین شفاعت گزار! اور قرآن کریم کا کیا کہنا ، تمام شیوناتِ الٰہیہ اور صفاتِ کمالیہ کا آئینہ! بندہ ظاہر وباطن میں سراپا نور ہوجائے۔
رمضان شریف میں قرآن کریم کی تلاوت میں مشغولیت تین طرح سے ہوسکتی ہے۔ اول تراویح، دوسرے دور ، تیسرے عام تلاوت۔ تراویح کی نماز کو تو اﷲ تعالیٰ نے نفل قرار دیا ہے ، حضرت سلمان فارسی ص نے حضرت رسول کریم ا کاایک بلیغ اور موثر خطبہ نقل کیا ہے ، اس میں ایک جملہ یہ ہے : شھر جعل اﷲ صیامہ فریضۃ وقیام لیلہ تطوعاً( رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ) یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے کو اﷲ نے فرض کیا ہے، اور