الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہِ ھُدَیً لِلْمُتَّقِیْن ،یہ کتاب اس میں کوئی تردد اور شک نہیں ، کہ اہل تقویٰ کے لئے دستور العمل ہے ۔ یہ اس کی شانِ صداقت وحقانیت ہے۔
(۵) پھر یہ فرمایا کہ جب رمضان شریف برکات الٰہیہ کا مرکز ہے ، اور قرآن کریم کی بھی یہی شان جامعیت ہے، تو دونوں میں بغایت مناسبت ہے ، اس لئے اس کلام عظیم کو نازل کرنے کیلئے یہی مہینہ منتخب ہوا، اور یہ نزول لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف ہے ، آسمانِ دنیا پر آگیا تو گویا اس کے انوار سے دنیا جگمگااٹھی ، پھر وقتاً فوقتاً حسب ضرورت وہاں سے جبرئیل امین لاتے رہے۔
(۶) پھر پورے رمضان کا خلاصہ اور حاصل شب قدر ہے ، لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَھْرٍ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اور نزول قرآن کے لئے یہی رات متعین ہوئی ، إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ہے۔
اتنی گوناگوں فضیلتوں اور عظمتوں کاتقاضا ہے کہ یہ پورا مہینہ روزے اور قرآن کے لئے وقف کردیا جائے ، روزے کی برکت سے انسان بشری کمزوریوں سے اوپر اٹھ کر ملکوتیت کی پاک صفات سے آراستہ ہونے کی استعداد حاصل کرلے گا ، کیونکہ بشری کمزوریوں کی بنیاد کھانے پینے کی بھوک پیاس ، اور شہوت کی طرف میلان ہے ، روزہ کی حالت میں یہ سب چیزیں اعتدال پر آجاتی ہیں ، اور روزہ دار میں بارگاہِ خداوندی کی جانب پرواز کی صلاحیت ہوجاتی ہے ، جب یہ صلاحیت پیدا ہوگئی ،تو اب قرآن مجید کی تلاوت اسے بارگاہِ خداوندی میں پہونچادیتی ہے ، اس لئے دن میں روزہ اور رات میں تراویح ، جس میں قرآن کی تلاوت اس کو بارگاہِ قدس تک بآسانی پہونچادیتی ہے ، اور بندہ اپنے مقصود میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
۹۹۹۹۹
قرآن وحدیث کی تصریح اور سیّدنا مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی توضیح سے رمضان شریف اور قرآن شریف کی مناسبت خوب معلوم ہوگئی ۔ یہ مناسبت تو نزولِ قرآن کے سلسلے