رمضان فتحت ابواب الجنۃ وغلقت ابواب النار وصفدت الشیاطین ، جب رمضان کا مہینہ آتا ہے ، تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ، اور سرکش شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے ، اور یہ معلوم ہے کہ ہر خیر کا مرکز جنت ہے ، اور ہر شر کا مجمع جہنم ہے ، اور تمام برائیوں کی بنیاد شیطان ہے ، پس ماہ مبارک رمضان بنص حدیث تمام بھلائیوں اور برکتوں کا جامع ہے۔
(۲) دوسری بات یہ فرمائی کہ دنیاوآخرت میں جو بھلائی ہے ، اور جو بھی برکت ہے ، سب کا فیضان ذات الٰہی جل شانہ سے ہے ، کیونکہ حق تعالیٰ کی ذات شر ونقص سے پاک ہے ، شر اور نقص کا منبع تو وہ ہے ، جس میں عدم کی کیفیت پائی جاتی ہے ، اور حق تعالیٰ ہر قسم کے عدم سے منزہ ہیں ، پس جو کچھ خیر ہے انھیں کی طرف سے ہے ۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:ما أصابک من حسنۃٍ فمن اﷲ وماأصابک من سیئۃٍ فمن نفسک ، جو کچھ تمہیں بھلائی پہونچے وہ اﷲ کی طرف سے ہے ، اور جو کچھ تمہیں برائی پہونچے وہ خود تمہاری ذات کی طرف سے ہے ۔
(۳) تیسری بات یہ فرمائی کہ رمضان شریف کی تمام برکتیں اور خوبیاں اﷲ تعالیٰ کے ان تمام ذاتی کمالات کے ثمرات ہیں ، جن کا جامع اﷲ کا کلام ہے ، کیونکہ متکلم کی تمام خوبیاں اس کے کلام میں جلوہ گر ہوتی ہیں ، پس کلام اﷲ ان تمام کمالات ذاتیہ کا جامع اور مظہر ہے۔
(۴) چوتھی بات یہ ہے کہ کلام الٰہی میں قرآن مجید کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ جمال وکمال کے تمام حقائق کا مرکز اور جامع ہے ، کیونکہ یہ آخری کلام ہے ، جو دنیا والوں کو دیا گیا ہے ، پس ضروری ہے کہ حق تعالیٰ کے تمام شئونات کمالیہ وجمالیہ کا جامع ہو۔ لَوْ أَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہٗ خَاشِعاً مُتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اﷲِ ،اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر اتارتے ، تو تم دیکھتے کہ وہ اﷲ کی خشیت سے دب جاتے ، شق ہوجاتے ۔ یہ اس کی شانِ عظمت ہے۔اور إِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ أَقْوَمُ ،اور بلاشبہ یہ قرآن اسی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ، جو بالکل درست ہے۔ یہ اس کی شانِ ہدایت ہے۔اور ذٰلِکَ