اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
لیکن اس کے بعدمحض کچھ عرصہ ہی گذراتھاکہ فلسطین کاتمام علاقہ مشہورومعروف طاعون’’عمواس‘‘کی لپیٹ میں آگیا(۱)جس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پرہلاکتیں ہوئیں،حتیٰ کہ وہاں موجودصرف اسلامی لشکرمیں سے جوافراداس کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے لقمۂ اجل بن گئے ٗ ان کی تعدادپچیس ہزارتھی…جن میں سے بہت بڑی اکثریت حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی… اورپھراسلامی لشکرکے سپہ سالاریعنی خودحضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بھی اس طاعون کانشانہ بن گئے،اورانتقال کرگئے۔تب ان کی نمازِجنازہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔(۲) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعدخلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ فوری طورپرحضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کواسلامی لشکرکاسپہ سالارمقررکردیا،یعنی اب تعلیم وتربیت کے علاوہ سپہ سالاری کے فرائض بھی انہیں سونپ دئیے گئے،یوں وہاں فلسطین میں ان کی ذمہ داریاں مزیدبڑھ گئیں۔ لیکن بہت جلدہی یہ خودبھی اسی جان لیوااورمہلک ترین وباء سے متأثرہوگئے،اورپھر… بس دیکھتے ہی دیکھتے دنیاسے منہ موڑگئے۔ یوں وہاں فلسطین میں ،اپنے شہرمدینہ سے بہت دور،رسول اللہﷺکی مسجدسے بہت دور، اور مسجدقبلتین (جہاں ان کاخاندان ’’بنوسَلَمَہ‘‘آبادتھا) سے بہت دور…اُس پردیس میں ------------------------------ (۱) کہاجاتاہے کہ اس طاعون کی ابتداء چونکہ بیت المقدس کے قریب’’عمواس‘‘نامی بستی سے ہوئی تھی ٗلہٰذااسی مناسبت سے یہ ’’طاعون عمواس‘‘کے نام سے معروف ہوگیا،اس بارے میں مفصل تذکرہ اس سے قبل حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے تذکرے کے ضمن میں کیاجاچکاہے (صفحہ:۱۳۹۔۱۴۰) (۲) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کامفصل تذکرہ اس سے قبل گذرچکاہے (صفحات:۱۲۵۔۱۴۱)۔