اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ (۱) ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے ٗ البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میںبھی اگرکوئی ایساانسان ہوتو یقیناوہ عمرہی ہوسکتے ہیں) ٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ (۲) ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے) رسول اللہﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کااندازہ مذکورہ بالااحادیث سے بخوبی کیاجاسکتاہے۔خلافت کیلئے انتخاب: حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیشہ رسول اللہﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت میں پیش پیش رہے،علمی استفادہ اورکسبِ فیض کاسلسلہ ہمیشہ جاری رہا، آپؐ بھی ہمیشہ تادمِ آخرحضرت عمربن خطابؓ سے راضی اورمسرورومطمئن رہے،اوریوں آپؐ کامبارک دور گذر گیا۔ آپﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں حضرت ------------------------------ (۱) متفق علیہ۔مشکاۃ المصابیح[۶۰۲۶]باب مناقب عمر۔ (۲) متفق علیہ۔مشکاۃ المصابیح[۶۰۲۷]