اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کاتعلق رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کاتعلق شہرمکہ میں قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوزہرہ‘‘سے تھا(۱)مکہ شہرمیں ان کی ولادت رسول اللہﷺکی ولادت باسعادت کے تقریباً دس سال بعدہوئی۔ ٭حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میںسبھی لوگوں پرسبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔ ٭مزیدیہ کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ’ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیںسے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہﷺنے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔ ٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص دوستی اورقربت تھی ،دونوں میں بہت گہرے روابط تھے،چنانچہ ظہورِاسلام کے بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت کے نتیجے میں ہی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مشرف باسلام ہوئے۔ ٭قبولِ اسلام کے بعدتکالیف ٗ مصائب وآلام ٗاورآزمائشوں کادورشروع ہوا…دینِ ------------------------------ (۱) اسی خاندان’’بنوزہرہ‘‘سے رسول اللہﷺکی والدہ ماجدہ آمنہ بنت وہب کابھی تعلق تھا۔