اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
والدہ کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی ابوہریرہؓ کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا… بے اختیارآنکھوں سے آنسوبہنے لگے…اب دوبارہ فوراًاسی وقت پلٹے اوررسول اللہ ﷺ کو اس چیزکی اطلاع دینے کی غرض سے روانہ ہوگئے… ابوہریرہ ؓ ابھی کچھ ہی دیرقبل بھی اسی راستے پرچلتے ہوئے رسول اللہﷺکی خدمت میں پہنچے تھے،تب بھی ان کی آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے…اوراب دوبارہ اسی راستے پررواں دواں تھے،اوراب بھی آنکھوں سے آنسورواں تھے،البتہ پہلی باروہ غم کے آنسوتھے…اوراس بار یہ خوشی کے آنسوتھے…اورپھراسی کیفیت میں رسول اللہﷺکی خدمتِ اقدس میں پہنچے …بہتے ہوئے آنسؤوں اوربھیگی پلکوں کے ساتھ یہ خوشخبری سنائی ، اوربڑے ہی جذباتی اندازمیں یوں کہنے لگے’’اے اللہ کے رسول!اللہ نے آپ کی دعاء قبول فرمالی…میری والدہ مسلمان ہوچکی ہیں‘‘جس پرآپؐ نے نہایت ہی مسرت کااظہارفرمایا۔(۱)٭…طلبِ علم میں خاص رغبت واہتمام: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ھمیں جب اپنے علاقے ’’تہامہ‘‘سے طویل مسافت طے کرنے کے بعدمدینہ پہنچے تھے …اس کے بعدسے مسلسل رسول اللہﷺکے ساتھ ان کااس قدرگہرااورقلبی تعلق تھاکہ گویاآپؐ کی محبت وعقیدت ان کے رگ وپے میں سماگئی تھی…لہٰذااٹھتے بیٹھتے ٗ گھومتے پھرتے ٗ ہمہ وقت بس سائے کی طرح رسول اللہﷺکے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ------------------------------ (۱) صحیح مسلم[۲۴۹۱]باب فضائل أبی ہریرۃ الدوسی رضی اللہ عنہ۔ نیز:کتاب:الادب المفرد۔از:امام بخاری رحمہ اللہ۔باب(نمبر:۱۸)عرض الاسلام علیٰ الأم النصرانیۃ [۳۴] ۔