اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
میں گذاری کہ کاش کل صبح رسول اللہﷺمیرانام پکاریں…اورجب صبح کاسورج طلوع ہوا، تورسول اللہﷺکی آوازگونجی’’أینَ عَلي؟‘‘ یعنی ’’علی کہاں ہیں؟‘‘ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضرِخدمت ہوئے ، رسول اللہﷺنے اپنے دستِ مبارک سے انہیں عَلَم (جھنڈا) عطاء فرمایا، نیزفتح اورخیروبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے انہیں رخصت فرمایا۔ رسول اللہﷺکے حکم کی تعمیل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلامی لشکرکی قیادت کرتے ہوئے دشمن کی جانب پیش قدمی کرنے لگے،آمناسامناہوا، کافی سنسنی خیزاوراعصاب شکن قسم کی جنگ لڑی گئی۔ اس موقع پریہودی فوج کی قیادت ’’مرحب‘‘نامی شخص کررہاتھا ٗجس کابڑارعب اوردبدبہ تھا،اورجس کی بہادری کے بڑے چرچے تھے…مزیدیہ کہ وہ اُس دورکابڑانامی گرامی پہلوان بھی تھا۔ چنانچہ اس نے انتہائی غروروتکبرکے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوللکارا،جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پرایسابھرپوروارکیاکہ غروروتکبرکاوہ پتلا… پلک جھپکتے میںہی زمیں بوس ہوگیا، اورپھرآخرتمام شہر’’خیبر‘‘مسلمانوں کے ہاتھوںفتح ہوگیا،اور یوںرسول اللہ ﷺ اپنے لشکرسمیت کامیاب وکامران واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ تمام غزوات کے موقع پر ٗ بالخصوص’’غزوۂ خیبر‘‘کے موقع پرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمات ٗجرأت وشجاعت ٗاورجذبۂ سرفروشی یقیناتاریخِ اسلام کاسنہری باب ہے۔٭…عبادت اورمنبرومحراب: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ زہدوتقویٰ ٗ تعلق مع اللہ ٗ خشیتِ الٰہیہ ٗ شب بیداری