اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ابوالدرداء رضی اللہ عنہم اجمعین)جن کاشماررسول اللہﷺکے بہت ہی جلیل القدراورعالی مرتبت صحابۂ کرام میں ہوتاتھا…خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس ہدایت پرعمل کرتے ہوئے اس طویل سفرپر(مدینہ سے ملکِ شام) روانہ ہوگئے۔ پہلے یہ تینوں ’’حِمص‘‘پہنچے،جہاں کچھ عرصہ یہ تینوں ہی خدمات انجام دیتے رہے،اور پھر باہمی مشورے سے حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کووہیں چھوڑا،جبکہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ وہاں سے دِمَشق کی جانب ٗ اورحضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ فِلَسطین کی جانب روانہ ہوگئے۔ یہ اُس دورکی بات ہے جب مسلمان روئے زمین کی دونوں عظیم ترین قوتوں یعنی سلطنتِ فارس اورسلطنتِ روم کے خلاف بیک وقت مختلف محاذوں پربرسرِپیکارتھے،یہ دونوں قوتیں مسلمانوں کے ہاتھوں اب رُوبہ زوال ہورہی تھیں،ان کی شان وشوکت اورجاہ وجلال کاسورج رفتہ رفتہ اب ماندپڑتاجارہاتھا… سلطنتِ فارس کے خلاف محاذپرپہلے حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ ٗ اورپھرحضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سپہ سالاری کے فرائض انجام دے رہے تھے،جبکہ سلطنتِ روم کے خلاف محاذپرپہلے حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ اوراب حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سپہ سالاری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ چنانچہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ جب حِمص سے فِلسطین پہنچے تب سپہ سالارحضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بھی وہیں تھے،جنہوں نے ان کی وہاں آمدپرنہایت مسرت کااظہارکیا،اورانتہائی گرمجوشی کے ساتھ ان کاخیرمقدم کیا،پرانے ساتھی مل بیٹھے ،اوریوں ہنسی خوشی دن گذرنے لگے۔