اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کس طرح پڑھناہے… البتہ بہت بڑی تعدادمیں جوغیرعرب اب مشرف باسلام ہوچکے تھے…انہیں اس معاملے میں کافی دشواری کاسامناتھا،لہٰذاوہ جب تلاوتِ قرآن کرتے توایک ہی لفظ کوکوئی شخص ایک طرح پڑھتا…جبکہ دوسراکوئی کسی اورطرح پڑھتا…یوںان میں بسااوقات بہت سے قرآنی الفاظ کے تلفظ کے معاملے میں باہم اختلاف کی نوبت آتی… بالخصوص حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سلطنتِ فارس کے ایک دوردرازکے علاقے ’’آرمینیا‘‘(۱)میں جب اسلامی لشکرکے سپہ سالارکی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے تب وہاں یہ صورتِ حال ان کے مشاہدے میں آئی کہ مسلمان سپاہی دن بھراللہ کے دین کی سربلندی کی خاطرمیدانِ کارزارمیں دشمن کے خلاف برسرِپیکاررہتے ہیں،اورپھر جب رات کااندھیراچھاجاتاہے تویہ سپاہی اپنے اللہ سے لولگانے میں مشغول ہوجاتے ہیں، پھروہاں تہجد اور دعاء ومناجات کے سلسلے ہوتے ہیں ، ہرخیمے سے تلاوتِ قرآن کی آوازیں بلندہونے لگتی ہیں…ایسے میں تلاوتِ قرآن کے دوران کوئی سپاہی کسی لفظ کوایک طرح پڑھتا،جبکہ دوسراکسی اورطرح …یوں ان میں باہم اختلاف ہونے لگتا… ظاہرہے کہ یہ بہت ہی نازک اورانتہائی حساس ترین معاملہ تھا،کیونکہ یہ کوئی دنیاوی معاملہ تونہیں تھاکہ انسان صبرکرلے…دین کے معاملے میں اوربالخصوص قرآنی کلمات کے تلفظ کے بارے میں کس طرح صبرکیاجاسکتاتھا…؟(۲) مزیدیہ کہ اسلامی لشکرکے یہ سپاہی تووہاں اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطرخدمات انجام ------------------------------ (۱) جمہوریہ آرمینیاآجکل روس کے قریب ایک مستقل آزادملک ہے۔ (۲)یعنی ان میں سے ہرسپاہی یہ سمجھتاتھاکہ میں درست پڑھ رہاہوں اوردوسراغلط…لہٰذااس غلطی پروہ اسے ٹوکتا…جبکہ دوسرایہ اصرارکرتاکہ میں درست پڑھ رہاہوں اورتم غلط پڑھ رہے ہو…