اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
میں ابھی چلاہی تھاکہ آپﷺنے مجھے دوبارہ آوازدی اورفرمایا’’اے حذیفہ !واپسی پرتم سیدھے میرے پاس ہی آنا،کسی اورکوکچھ نہ بتانا‘‘میں نے عرض کیا’’آپ کاحکم سرآنکھوں پراے اللہ کے رسول…!) اس کے بعدمیں سخت تاریکی میں پھونک پھونک کرقدم رکھتاہوادشمن کے کیمپ کی جانب روانہ ہوگیا،اسی کیفیت میں …اپنی جان ہتھیلی پرلئے ہوئے میں مسلسل چلتارہا…حتیٰ کہ دشمن کے کیمپ میں جاپہنچا،اوراب گویامیں انہی کاایک فردتھا،وہاں مسلسل گھومتے پھرتے آخرمیں ایک ایسی جگہ جا پہنچاجہاں ان کے بڑے سردارقسم کے لوگ خیمہ زن تھے…کچھ دیرگذرنے کے بعدمیں نے دیکھاکہ ان کاسپہ سالارابوسفیان(جواُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اپنی جگہ سے اٹھااوراپنے سپاہیوں کو کچھ ضروری ہدایات دینے کی غرض سے ایک جگہ کھڑاہوگیا،اورگفتگوکے آغازسے قبل اس نے سب کوتاکید کرتے ہوئے کہا’’جوکچھ میں ابھی کہنے والاہوں ٗ میری وہ بات کسی صورت مسلمانوں تک نہ پہنچے،لہٰذاہرکوئی اپنے آس پاس نظررکھے ، اپنے ہم نشین کے بارے میں خوب اطمینان کرلے (کہیں وہ مسلمانوں کاجاسوس نہو) اورپھراس تاکیدوتمہیدکے بعداوراطمینان کرلینے کے بعدوہ یوں گویاہوا’’اے جماعتِ قریش!بخداہماراچین وسکون بربادہوچکاہے،ہمارے جانورموت کی نیندسوتے جارہے ہیں، اُدھربنوقریظہ ہم سے دست کش ہوچکے ہیں،مزیدیہ کہ سخت اورتندوتیزآندھی ہمارے لئے الگ مصیبت بنی ہوئی ہے،لہٰذامیراخیال یہ ہے کہ اب ہمیں یہاں سے واپسی کی تیاری کرنی چاہئے…‘‘اورپھرفوراًہی اس نے فَاِنِّي مُرتَحِل … یعنی’’میں توبس چلا…‘‘یہ الفاظ کہتے ہوئے اپنے اونٹ کی رسی کھولی اوراس پرسوارہوکراسے ایڑلگادی،