اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
جس پراس کااونٹ فوراًہی اچھل کراٹھ کھڑاہوا…تب وہاںافراتفری مچ گئی ،ہرکوئی وہاں سے فرارکیلئے بے چین نظرآنے لگا…‘‘ حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ مزیدفرماتے ہیں’’جب میں نے ابوسفیان کووہاں سے اس طرح روانہ ہوتے دیکھاتواللہ کی قسم اگرمجھے رسول اللہﷺکی طرف سے رازداری برتنے کی تاکیدکالحاظ نہوتا ٗتومیں اُس وقت ابوسفیان کوبسہولت اپنے تیرکانشانہ بناتا،اوراسے زندہ نکلنے نہ دیتا‘‘ اس کے بعدحضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’میں اسی طرح بچتابچاتا واپس چلاآیا،رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضرہوا،اُس وقت آپؐ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے،آپؐ نے سردی سے حفاظت کیلئے ایک چادراوڑھ رکھی تھی،جب آپؐ نے نمازمکمل کی ،تومیری طرف متوجہ ہوئے،مجھے اپنے قریب بٹھایا،اورازراہِ شفقت اپنی اس چادرکاایک پلومجھے اُڑھادیا،اورپھرصورتِ حال دریافت فرمائی،میں نے تمام ماجراکہہ سنایا،اس پرآپؐ کی مسرت کی انتہاء نہ رہی،اورآپؐ نے اللہ کاشکراداکیا‘‘(۱) ٭…حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہﷺکیلئے یہ والہانہ عقیدت ومحبت ٗ مشکل ترین حالات میں بھی اطاعت وفرمانبرادری اوروفاء شعاری کایہ بے مثال جذبہ …اسی طرح رسول اللہﷺکی طرف سے حذیفہؓ کیلئے شفقت وعنایت اورلطف وکرم کایہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا…حتیٰ کہ آپؐ کامبارک دورگذرگیا،آپؐ ہمیشہ تادمِ آخر ان سے انتہائی مسرورومطمئن رہے،بالخصوص منافقین کی طرف سے ہمہ وقت جواندیشہ لاحق رہتاتھا ٗ اس سلسلے میں ’’سراغ رسانی ‘‘کے حوالے سے حضرت حذیفہؓ ------------------------------ (۱)صحیح مسلم[۱۷۸۸]باب غزوۃ الأحزاب۔حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کایہ واقعہ صحیح مسلم کے علاوہ دیگرمتعددکتبِ حدیث وتاریخ وسیرومغازی میںبھی مذکورہے۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ۔