اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
وقت میں اپنی بیوی سے اس کی چادرمانگ لایاتھا،بس وہی میں نے اوڑھ رکھی تھی،جوکہ کافی چھوٹی تھی اورمیرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچ رہی تھی … دوسری بات یہ کہ مجھے بھوک نے بہت ہی بدحال کررکھاتھا،لہٰذامیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ٗ نیزسردی سے بچنے کی خاطرنیچے کی جانب جھکاہواتھا،سیدھاکھڑے ہونے کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی ، اسی دوران رسول اللہﷺمیرے بہت قریب آگئے،اورسرگوشی کے اندازمیں مجھ سے دریافت فرمایا: مَن ھٰذا؟ یعنی ’’یہ کون ہے؟‘‘میں نے عرض کیا’’حذیفہ‘‘ اس پرآپؐ نے دوبارہ وضاحت چاہی ، میں نے پھرعرض کیاکہ ’’میں حذیفہ ہوں، اے اللہ کے رسول!حکم فرمائیے‘‘تب آپؐ نے فرمایا’’دشمن کے کیمپ میں کچھ ہونے والاہے،لہٰذاتم چپکے سے وہاں جاؤ،اورمجھے وہاں کی صورتِ حال سے مطلع کرو‘‘ تب میں فوری طورپرآپ ؐکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگیا،اُس وقت سردی کی وجہ سے میری جوکیفیت تھی ،آپؐ اسے جان چکے تھے،لہٰذااس موقع پرآپؐ نے میری جانب دیکھتے ہوئے یہ دعاء فرمائی : اَللّھُمّ احْفَظْہُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَمِن خَلْفِہٖ ، وَعَن یَمِیْنِہٖ وَعَن شِمَالِہٖ ، وَمِن فَوْقِہٖ وَمِن تَحْتِہٖ ۔ یعنی’’اے اللہ!تواس کی حفاظت فرماسامنے سے بھی اورپیچھے سے بھی ، دائیں سے بھی اوربائیں سے بھی ، اوپرسے بھی اورنیچے سے بھی‘‘(۱)رسول اللہﷺکامیرے لئے یہ دعاء فرماناتھاکہ بس فوراًہی مجھے یوں محسوس ہواکہ اللہ نے میرے دل سے خوف دورکردیا،نیزسردی کی شدت بھی جاتی رہی ------------------------------ (۱) چونکہ غزوۂ خندق کے موقع پرمسلمانوں کے دائیں بائیں ٗآگے پیچھے ٗ اوپر(پہاڑوں پر) نیچے (وادیوں میں) ہرطرف دشمن چھایاہواتھا(جیساکہ اس آیت میں منظرکشی کی گئی ہے: اِذ جَاؤوکُم مِن فَوقِکُم وَمِن أسفَلَ مِنکُم …} (الأحزاب:۱۰) لہٰذارسول اللہﷺنے اس موقع پرحضرت حذیفہؓ کیلئے اسی مناسبت سے ہرطرف سے حفاظت کی دعاء فرمائی۔