اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
آخراس نازک موقع پرحضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ خوب دل لگاکراور گڑگڑا کر اللہ سے دعاء ومناجات میں مشغول ومنہمک ہوگئے،دورانِ دعاء وہ بارباریہ الفاظ دہراتے کہ ’’یااللہ!توخوب جانتاہے کہ مجھے یہ بات بہت زیادہ پسندہے کہ تیرے رسولﷺجب بھی مدینہ سے کہیں روانہ ہوں تومیں بھی ان کے ہمراہ رہوں ،اورجب بھی ان کی مدینہ واپسی ہوتب بھی میں ان کے ہمراہ ہی رہوں…لیکن …یااللہ تودیکھ رہاہے کہ آج میں یہ کیسی مشکل میں پھنس گیاہوں ‘‘ دعاء ومناجات اوراللہ کے سامنے فریادکاسلسلہ کچھ دیراسی طرح جاری رہا…اور پھر اچانک ہی اُم سُلیم انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں’’اے ابوطلحہ!میں جوتکلیف محسوس کررہی تھی وہ اب ختم ہوچکی ہے…لہٰذااب اطمینان کے ساتھ سفرجاری رکھئے‘‘(یعنی اس نازک موقع پرابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی دعاء فوری طورپرقبول ہوئی ،جوکہ یقیناان کی کرامت تھی اوران کے اخلاص کانتیجہ تھا) اورپھرمدینہ شہرپہنچتے ہی اُم سُلیم کودوبارہ وہی تکلیف محسوس ہوئی ،اورتب ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی،ولادت کے فوری بعداُم سُلیمؓ نے اپنے اس نومولودنورِنظرکواپنے بیٹے انس(یعنی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ،جواُن کے پہلے شوہرسے تھے)کی گودمیں ڈالتے ہوئے یہ تاکیدکی کہ اسے فوراًرسول اللہﷺکی خدمت میں لے جاؤ…نیزکچھ کھجوریں بھی ہمراہ بھیجیں… چنانچہ انس(رضی اللہ عنہ)اس نومولودکولئے ہوئے آپؐ کی خدمتِ اقدس میں پہنچے ،آپؐ نے اس نومولودکودیکھ کرنہایت مسرت کااظہارفرمایا،نیزایک کھجوراپنے دانتوں سے چبا کر کچھ نرم کی ،اورپھراس کاکچھ حصہ اپنی انگشتِ مبارک سے اس بچے کوچٹایا(۱)