اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
خیروبرکت عطاء فرمائے…‘‘ اس کے بعدجب کچھ عرصہ گزرچکاتواُم سُلیم کوحمل کے آثارمحسوس ہونے لگے…وقت گذرتارہا،اورولادت کے دن قریب آتے گئے۔ ٭…حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کایہ معمول تھاکہ رسول اللہﷺکی خدمت اورصحبت ومعیت میں زیادہ سے زیادہ وقت گذارنے کی کوشش کیاکرتے تھے،حتیٰ کہ اگرکبھی آپؐ مدینہ سے باہرکسی سفرپرتشریف لے جاتے،تب بھی ابوطلحہؓ ہمیشہ آپؐ کے ہمراہ ہی رہاکرتے…تاکہ دورانِ سفرآپؐ کی خدمت ٗ نیزبوقتِ ضرورت آپؐ کی حفاظت اورحمایت ومدافعت کافریضہ بھی انجام دیاجاسکے… چنانچہ ایک بار رسول اللہﷺکے ساتھ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کسی سفرپرگئے ہوئے تھے،اُس وقت ان کی اہلیہ اُم سُلیم بھی ہمراہ تھیں،سفرسے واپسی پرجب یہ حضرات مدینہ سے کچھ فاصلے پرتھے …توشام ہونے لگی ،آپؐکامعمول یہ تھاکہ آپؐ جب بھی کسی سفرسے واپس تشریف لاتے تورات کے وقت اپنے گھرنہیں لوٹتے تھے،بلکہ ہمیشہ دن کی روشنی میں ہی گھرتشریف لایاکرتے تھے۔ چنانچہ اُس روزبھی جب شام ہونے لگی توآپؐ نے اب کسی جگہ توقف کئے بغیرسفرجاری رکھا…تاکہ رات کااندھیراچھانے سے قبل گھرپہنچ سکیں… جبکہ عین اسی وقت اُم سُلیم رضی اللہ عنہاکودردِزِہ محسوس ہونے لگا،اب یہ میاں بیوی دونوں بہت زیادہ پریشان ہونے لگے …کیونکہ اس حالت میں سفرجاری رکھنابہت مشکل تھا، اور اگریہ دونوں رُک جاتے ہیں،تورسول اللہﷺکاساتھ چھوٹ جائے گا،اوریہ چیزبھی انہیں کسی صورت گوارانہیں تھی…