اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
نیزاس موقع پرآپؐ نے اس بچے کانام ’’عبداللہ‘‘تجویزفرمایا،اوراسے دعائے خیروبرکت سے بھی نوازا۔(۱) رسول اللہﷺنے اس نومولودکیلئے دعائے خیروبرکت فرمائی تھی،اولاًتواس کی ولادت سے بہت پہلے جب ان دونوں میاں بیوی کاوہ کمسن بیٹاوفات پاگیاتھا،اورتب اُس موقع پرآپؐ نے ارشادفرمایاتھا: بَارَکَ اللّہُ لَکُمَا فِي لَیلَتِکُمَا … یعنی’’آج رات کے تم دونوں کے اس تعلق میں اللہ خیروبرکت عطاء فرمائے‘‘ اورپھراُس واقعے کے بعداب اِس نومولودکی پیدائش ہوئی تھی، لہٰذاظاہرہے کہ آپؐ کی یہ دعاء اسی نومولودکیلئے تھی…مزیدیہ کہ اِس کی ولادت کے فوری بعداب آپؐ نے دوبارہ اسے دعائے خیروبرکت سے نوازا… لہٰذااسی کایہ اثرتھاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اس بچے میں ٗاورپھرمزیدیہ کہ آگے اس کی نسل میں بھی اس خیروبرکت کے آثارجاری رہے، چنانچہ یہ بچہ (عبداللہ بن ابی طلحہ الانصاریؓ) جب بڑاہواتواللہ نے اسے یکے بعددیگرے نوبیٹے عطاء فرمائے ،جوبڑے ہونے کے بعد انتہائی شریف النفس ثابت ہوئے تھے ،نیز بڑے ہونے کے بعدیہ سب عالمِ دین اورحافظِ قرآن بھی بنے۔ ------------------------------ حاشیہ صفحہ گذشتہ: (۱) عربی میں اس عمل کو’’تحنیک‘‘کہاجاتاہے، یعنی نومولودکوفوری طورپرکوئی چیزچٹانا،مقصدیہ کہ آپؐ نے اپنی انگشتِ مبارک سے وہ کھجورجسے آپؐ نے چبایابھی تھا،اس نومولودکوچٹائی۔ (۱)یہ واقعہ مشہورومعروف متفق علیہ حدیث میں مذکورہے جس کی ابتداء اس طرح ہے : کَانَ ابنٌ لأبي طَلحَۃَ یَشتَکِي ، فَخَرَجَ أبوطَلحَۃ ، فَقُبِضَ الصّبِيُ … امام نووی رحمہ اللہ نے ریاض الصالحین میں ’’باب الصبر‘‘میں یہ حدیث درج کی ہے ،نمبر:۴۴۔