اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
خوشگوارماحول میں گفتگوچلتی رہی،حتیٰ کہ اس دوران ازدواجی معاملات کی نوبت بھی آئی۔ یہ سب کچھ ہوجانے کے بعداُم سُلیم رضی اللہ عنہانے اپنے شوہرابوطلحہ رضی اللہ عنہ کومخاطب کرتے ہوئے …بڑے ہی حوصلے کے ساتھ…پرسکون اندازمیں یوں کہا: یَا أبَا طَلحۃ! أرَأیتَ لَو أنّ قَوماً أعَارُوا عَارِیَتَھُم أھلَ بَیتٍ ، فَطَلَبُوا عَارِیَتَھُم ، أ لَھُم أن یَمنَعُوھُم؟ یعنی’’اے ابوطلحہ!اگرکسی نے کسی کے پاس اپنی کوئی چیزبطورِامانت رکھوائی ہو،اورپھرکچھ عرصے بعدوہ اپنی امانت واپس طلب کرے،توجس کے پاس امانت رکھوائی ہے،کیا اسے اس بات کاحق ہے کہ وہ اس کی امانت لوٹانے سے انکارکردے؟‘‘ ابوطلحہ ؓ نے فوری اوربرجستہ جواب دیاکہ’’نہیں…اسے کوئی حق نہیں پہنچتا‘‘ تب اُم سُلیمؓ نے کہا: فَاحْتَسِبْ ابنَکَ … یعنی’’لہٰذا…اب آپ بھی اپنے بیٹے کے بارے میں بس اللہ سے ثواب کی امیدرکھئے‘‘ (یعنی ہمارے پاس وہ اللہ کی امانت تھی،اللہ نے اپنی امانت واپس لے لی،لہٰذااب آپ اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس صدمے پرصبرسے کام لیجئے ) یہ بات ابوطلحہ ؓ کیلئے بالکل ہی اچانک اورغیرمتوقع تھی،لہٰذااپنی اہلیہ کی زبانی وہ یہ خبرسن کر بہت ناراض ہوئے،اورخوب غصے کی کیفیت میں یوں کہنے لگے: تَرَکْتِنِي، حَتّیٰاِذا تَلَطَخّتُ… ثُمّ أخْبَرتِنِي بِابْنِي…؟ یعنی’’اب…اتناکچھ ہوجانے کے بعدتم مجھے میرے بیٹے کی موت کی خبرسنارہی ہو؟ اورپھرصبح ہوتے ہی ابوطلحہؓ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوئے اوریہ تمام صورتِ حال بیان کی…جسے سننے کے بعدآپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: بَارَکَ اللّہُ لَکُمَا فِي لَیلَتِکُمَا … یعنی’’آج رات کے تم دونوں کے اس تعلق میں اللہ