اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
بچے کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،لہٰذاگھرسے روانگی کے بعددن بھروہ اسی پریشانی میں مبتلارہے تھے…اُس دورمیں آجکل کی طرح رابطے کی کوئی سہولت میسرنہیں تھی…لہٰذاتمام دن وہ اسی فکرمیںکھوئے رہے تھے کہ …نہ جانے…گھرمیں کیا ہو رہا ہوگا؟ بچے کی کیاکیفیت ہوگی؟یہی وجہ تھی کہ دن بھرکے انتظارکے بعدشام کوگھرپلٹتے ہی سب سے پہلے انہوں نے بچے کی خیریت دریافت کی۔ شوہرکی زبانی یہ سوال سن کراُم سُلیمؓ کچھ دیرکیلئے اندرسے لرزکررہ گئیں،بہت زیادہ گھبرا گئیں، لیکن فوراًہی خودکوسنبھالا،حوصلہ مضبوط کیا،اوریوں کہا: ھُوَ أسْکَنُ مَا کَان، یعنی’’پہلے کی بنسبت اب وہ آرام میں ہے‘‘(۱) ابوطلحہ ؓ بیوی کی زبانی یہ جواب سن کرمطمئن ہوگئے،مزیدیہ کہ جب انہوں نے یہ منظر دیکھا کہ بچے کے اوپرتوچادراُڑھارکھی ہے…توانہوں نے چادرہٹاکراسے دیکھنابھی اُس وقت مناسب نہیں سمجھاکہ کہیں ایساکرنے کی وجہ سے اس کی نیندمیں خلل واقع نہوجائے۔ اُس روزاُم سُلیم ؓ نے کھانابھی ابوطلحہؓ کی آمدسے قبل ہی تیارکرلیاتھا،تاکہ جیسے ہی وہ گھر پہنچیں توانہیں فوراًکھاناپیش کردیاجائے،اوریوں وہ مشغول ہوجائیں اورفوری طورپران کی توجہ بچے کی طرف نہ جائے…چنانچہ اب فوراًہی انہوں نے کھاناپیش کردیا،کچھ وقت اس طرح گذرگیا،ابوطلحہؓ یہ سوچ کراب کافی مطمئن اوربے فکربھی تھے کہ بچے کی طبیعت توآج بہترہے…آرام سے سورہاہے،لہٰذاکھانے کے بعدبھی دیرتک میاں بیوی کے درمیان ------------------------------ (۱) یعنی یہ بات کہتے وقت اُم سُلیم نے دل میں نیت یہ کی ہوگی کہ بچہ جب تک زندہ تھابیمارتھا،بڑی تکلیف میں تھا…لیکن اب زندگی ہی نہیں رہی توتکلیف بھی ختم ہوگئی…نیزیہ مطلب بھی ہوسکتاہے کہ یہ توبہت چھوٹامعصوم بچہ تھا،لہٰذاموت کے بعدکے مراحل میں اس کیلئے کوئی حساب وکتاب نہیں ہوگا،کوئی عذاب نہیں ہوگا،لہٰذااس کیلئے تواگلے جہان میں بہتری ہی ہے۔