اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
بنی ہوئی تھی۔ ایک روزابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ جب کسی ضروری کام کاج کے سلسلے میں گھرسے باہرگئے ہوئے تھے،تب ان کی غیرموجودگی میں بچے کی طبیعت اچانک مزیدبگڑگئی،حالت کافی نازک ہوگئی،اورپھردیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنے ماں باپ کوداغِ مفارقت دے گیا… اب بچے کی ماں یعنی اُم سُلیم(رُمیصاء بنت ملحان النجاریہ رضی اللہ عنہا) کوایک تواپنے ننھے معصوم لختِ جگرکی موت کاصدمہ کھائے جارہاتھا،اس کے علاوہ مزیداب انہیںیہ پریشانی لاحق تھی کہ بچے کاباپ توصبح سے ہی گھرسے باہرگیاہواہے،ہمارے لئے رزق کے انتظام کے سلسلے میں صبح سے جدوجہدمیں مشغول ہوگا،اورجب دن بھرکی محنت اورجدوجہدکے بعد تھکاوٹ سے چورشام کولوٹ کرگھرآئے گا، تب ہم اس کی خدمت کی بجائے اوراس کیلئے راحت وآرام کے انتظام کی بجائے…یہ اس قدرالمناک خبراسے سنائیں گے…؟ آخرکچھ وقت گذرنے کے بعداُم سُلیم کے ہوش وحواس جب قدرے بحال ہونے لگے توانہوں نے گھرمیں سب کوسختی کے ساتھ یہ تاکیدکی کہ’’ شام کوابوطلحہ جب گھرآئیں گے تو خبردار!انہیں اس بچے کی وفات کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بتائے گا…جوکچھ بھی بتاناہوگا…اورجس طرح بتاناہوگا…یہ نازک ترین کام میں خودہی انجام دوں گی‘‘ اورپھربچے کے اوپرچادراڑھادی ،اوراسے ڈھانپ دیا۔ جب شام ہوئی ،ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھرآئے…تھکاوٹ سے چور…لیکن حسبِ توقع گھرمیں قدم رکھتے ہی انہوں نے سب سے پہلے یہی سوال کیاکہ ’’بچے کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ چونکہ علیٰ الصبح گھرسے جب روانہ ہوئے تھے اُس وقت