اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
اس موقع پروہاں موجودمسلمانوں کی مسرت اورجوش وخروش کایہ عالم تھاکہ ان سب نے یک زبان ہوکراس قدرپرجوش طریقے سے ’’نعرۂ تکبیر‘‘بلندکیاکہ مکے کی وادی گونج اٹھی…مشرکینِ مکہ کے نامورسرداروں کے کانوں تک جب اس نعرے کی گونج پہنچی… تووہ کھوج میں لگ گئے کہ آج مسلمانوں کے اس قدرجوش وخروش کی وجہ کیاہے؟ اورآخرجب انہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ آج عمرمسلمان ہوگئے ہیں …تووہ نہایت رنجیدہ وافسردہ ہوگئے…اوربے اختیاریوں کہنے لگے کہ’’آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا‘‘۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل تک مسلمان کمزوروبے بس تھے،چھپ چھپ کراللہ کی عبادت کیاکرتے تھے…جس روزحضرت عمرؓ نے دینِ اسلام قبول کیا، تورسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیاکہ : ألَسْنَا عَلَیٰ الحَقِّ یَا رَسُولَ اللّہ؟ یعنی’’اے اللہ کے رسول! کیاہم حق پرنہیں ہیں؟‘‘ آپؐنے جواب دیا : بَلَیٰ یا عُمَر یعنی’’ہاں اے عمر‘‘۔ تب عمرکہنے لگے : فَفِیمَ الاِخفَائُ؟ یعنی’’توپھرہمیں چھپانے کی کیاضرورت ہے؟‘‘اورتب پہلی بارمسلمان وہاں سے بیت للہ کی جانب اس کیفیت میں روانہ ہوئے کہ انہوں نے دوصفیں بنارکھی تھیں، ایک صف کی قیادت حضرت عمررضی اللہ عنہ ٗ جبکہ دوسری صف کی قیادت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کررہے تھے…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں یہ تمام مسلمان بیت اللہ کے قریب پہنچے جہاں حسبِ معمول بڑی تعدادمیں رؤسائے قریش موجودتھے،ان سب کی نگاہوں کے سامنے مسلمانوں نے پہلی بارعلیٰ الاعلان بیت اللہ کا طواف کیااورنمازبھی اداکی…یہی وہ منظرتھاجسے دیکھ کررسول اللہﷺنے حضرت عمرکو ’’الفاروق‘‘یعنی’’ حق وباطل کے درمیان فرق اورتمیزکردینے والا‘‘کے یادگارلقب سے