اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
نوازاتھا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے مزاج میں طبعی اورفطری طورپرہی تندی اورشدت تھی…قبولِ اسلام کے بعداب ان کی یہ شدت اسلام اورمسلمانوں کی حمایت ونصرت میں صرف ہونے لگی،جس سے کمزوروبے بس مسلمانوں کوبڑی تقویت نصیب ہوئی …جیساکہ مشہورصحابی حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’مَا زِلنَا أَعِزَّۃً مَنذُ أَسلَمَ عُمَر‘‘ یعنی’’جب سے عمرمسلمان ہوئے ہیں …تب سے ہم طاقت ورہوئے ہیں ‘‘(۱) اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (اِن کَانَ اِسلَامُ عُمَر لَفَتْحاً ، وَھِجرَتُہٗ لَنَصْراً ، وَاِمَارَتُہٗ رَحْمَۃً ، وَاللّہِ مَا استَطَعْنَا أن نُصَلِّيَ بَالبَیْتِ حَتّیٰ أسْلَمَ عُمَر‘‘ (۲) یعنی’’ عمرکاقبولِ اسلام ہمارے لئے بڑی فتح تھی،ان کی ہجرت ہمارے لئے نُصرت تھی، اوران کی خلافت ہمارے لئے رحمت تھی،اللہ کی قسم ! عمرکے قبولِ اسلام سے قبل ہم کبھی بیت اللہ کے قریب نمازتک نہیں پڑھ سکتے تھے ‘‘ ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل کیفیت یہ تھی کہ مکہ میں جوکوئی مسلمان ہوجاتا وہ اپنے قبولِ اسلام کوحتیٰ الامکان چھپانے کی کوشش کیاکرتاتھا…جبکہ اس بارے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کاحال یہ تھاکہ تمام سردارانِ قریش کے پاس جاجاکرانہیں اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں خودآگاہ کیاکرتے تھے۔ حضرت صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :(لَمَّا أسْلَمَ عُمَرُ ظَھَرَ الاِسلَامُ، وَدُعِيَ اِلَیہِ عَلَانِیَۃً، وَجَلَسنَا حَولَ البَیتِ حِلَقاً، وَطُفنَا بِالبَیْت وَانتَصَفْنَا مِمَّن غَلَظَ عَلَینا ، وَ رَدَدنَا عَلَیہِ بَعْضَ مَا یَأتِي بِہٖ)۔ ------------------------------ (۱) صحیح بخاری[۳۸۶۳]باب اسلام عمربن الخطاب۔ (۲)مجمع الزوائد[۹/۶۵]