اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
اورپھراگلے ہی لمحے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضری کی غرض سے بے تابانہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اُ ن دنوں رسول اللہﷺ بیت اللہ سے متصل ’’صفا‘‘پہاڑی کے قریب ’’دارالارقم‘‘نامی گھر میں رہائش پذیرتھے ،جہاں مٹھی بھرمسلمان آپؐ کی خدمت میں حاضرہوکراللہ کے دین کاعلم حاصل کیاکرتے تھے۔چنانچہ عمراسی ’’دارالارقم‘‘کی جانب روانہ ہوگئے۔ اُس وقت وہاںدارالارقم میںرسول اللہﷺ کے ہمراہ چندمسلمان موجودتھے،انہوں نے جب عمرکواس طرف آتے دیکھا تووہ پریشان ہوگئے…اتفاق سے اُس وقت ان کے ہمراہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے،جن کااس معاشرے میں بڑامقام ومرتبہ اورخاص شان وشوکت تھی،جن کی بہادری کے بڑے چرچے تھے ، خاندانِ بنوہاشم کے چشم وچراغ ٗ نیزرسول اللہﷺ کے چچا تھے…اورمحض تین دن قبل ہی مسلمان ہوئے تھے…انہوں نے جب یہ منظردیکھا…اوروہاں موجودکمزوروبے بس مسلمانوں کی پریشانی دیکھی…توانہیں تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے: ’’فکرکی کوئی بات نہیں،عمراگرکسی اچھے ارادے سے آرہے ہیں توٹھیک ہے، اوراگرکسی برے ارادے سے آرہے ہیں تو آج میں ان سے خوب اچھی طرح نمٹ لوں گا‘‘ اورپھرعمروہاں پہنچے،آمدکامقصدبیان کیا…حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ انہیں ہمراہ لئے ہوئے اندررسول اللہﷺکی خدمت میں پہنچے، عمرنے وہاں آپؐ کی خدمت میں حاضرہوکر أَشھَدُ أن لا اِلٰہ الّا اللّہ وَ أَشھَدُ أَنّکَ عَبدُ اللّہِ وَرَسُولُہ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں ٗ اورمیںگواہی دیتاہوں کہ آپؐ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں‘‘کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا،اورآپﷺکے دستِ مبارک پربیعت کی۔