اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سے آپ کے قلبِ مبارک پرنازل کی گئی ہیں‘‘ یہ بات سننے کے بعدرسول اللہﷺنے نہایت مسرت کااظہارفرمایا،نیزاس نوعمرکودعائے خیروبرکت سے بھی نوازا۔ اورپھرقدرے توقف کے بعدوہ دونوں (یعنی اس نوعمرلڑکے کی ماں ٗ نیزاس کے خاندان کاوہ معززشخص)یوں کہنے لگے’’اے اللہ کے رسول!اس کے علاوہ اس لڑکے میں بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کافی سمجھدارہے،لکھناپڑھنابھی جانتاہے…‘‘ اورپھرڈرتے ڈرتے عرض کیا’’دراصل یہ آپ کی خدمت میں رہناچاہتاہے،تاکہ اس طرح اسے آپ کی خدمت کاشرف بھی نصیب ہوسکے ،نیزیہ کہ یہ آپ سے اللہ کے دین کا علم بھی حاصل کر سکے‘‘ تب رسول اللہﷺنے اس نوعمرکی جانب بغوردیکھتے ہوئے ارشادفرمایا’’برخوردار!تمہیں اللہ کی کتاب میں سے جوکچھ یادہے ٗاس میں سے کچھ ہمیں بھی سناؤ‘‘ تب اس نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کی،اس موقع پررسول اللہﷺنے یہ بات محسوس فرمائی کہ واقعی اس نوعمرلڑکے کاتلاوتِ قرآن کااندازبہت ہی عمدہ اوردلنشین ہے ، اس کے ہونٹوں سے نکلتے ہوئے قرآنی کلمات چمکتے ہوئے خوبصورت موتیوں کی مانند محسوس ہورہے تھے،مزیدیہ کہ اس کی تلاوت کے اندازسے یوں محسوس ہورہاتھاکہ گویایہ کلمات محض اس کی زبان سے ہی نہیں ٗبلکہ دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہوں،نیزیہ کہ جوکچھ وہ اپنی زبان سے پڑھ رہاہے ٗاس کے معنیٰ ومفہوم سے وہ خوب واقف بھی ہے، اور پھر یہ کہ اس پراس کاخوب مضبوط ومستحکم ایمان بھی ہے،اوراس کلامِ الٰہی کے ساتھ اس کابہت زیادہ جذباتی تعلق اوروالہانہ لگاؤبھی ہے۔